نئی دہلی 14نومبر: بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے لوگوں نے نہ صرف ترقی اور گڈ گورننس کی تائید کی ہے بلکہ اس جیت کے ساتھ ہی انہوں نے بنگال میں جیت کا بگل بھی بجا دیا ہے۔ اسی پلیٹ فارم سے وزیر اعظم مودی نے مغربی بنگال کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “بہار کی جیت نے بنگال کے لیے راہ ہموار کر دی ہے، ہم وہاں بھی جنگل راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔” پی ایم مودی نے کہا، “گنگا بہار سے بنگال کی طرف بہتی ہے… بہار نے بنگال میں بی جے پی کی جیت کی راہ ہموار کی ہے۔” میں بنگال کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب ہم وہاں بھی جنگل راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔’ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ جس طرح بہار کے عوام نے خوف، دہشت، بدعنوانی اور جنگل راج کو مسترد کر دیا ہے، بنگال کے لوگ بھی تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کارکنوں کی محنت اور عوام کے اعتماد کی بدولت مغربی بنگال میں بھی سیاسی تبدیلی یقینی ہے۔
بہار کی جیت کو مغربی بنگال کے انتخابات سے جوڑتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس جیت سے مشرقی ہندوستان میں بی جے پی کے لیے ایک نیا جوش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کی حمایت کی بنیاد مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہاں کے لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دہرایا، ’’میں بنگال کے بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر بی جے پی بنگال میں بھی جنگل راج کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔‘‘ یہ ممتا بنرجی کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیوں کہ وہاں بھی ایس آئی آر کرایا جا رہا ہے، اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بہار کی طرح فرضی ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو ختم کیا جائے گا۔









