مشاعرے کا باقاعدہ آغاز انصاف سرونجی نے اپنے پرکشش ترنم میں نعت شریف پیش کر کے کیا۔ اس کے بعد نادر بھوپالی نے مشاعرے کی بنیاد اتنی بلند رکھی کہ آخر تک معیار برقرار رہا۔ اس طویل اور شاندار نشست میں جن شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ان میں مسعود رضا، نصرت مہدی، عزیز روشن، عارف علی عارف، وجے تیواری، خالدہ صدیق، ملک نوید، ساجد پریمی، ثروت زیدی، پروین صبا، پرویز اختر، رقیب انجم، سلیم نیر مجددی، طلعت فراز، سہیل عمر، سرور حبیب، اشفاق انصر، عظیم اثر، اے ایس کے شہنشاہ، سلیم سرمد، عامر اظہر، حنیف سوز، سلیم نیر، فاضل فیض، ساجد بریلوی، فرمان ضیائی، شعیب علی شاد، پروین پارو عارف، ثمینہ قمر، انور شان، ارشد خان، طلحہ الحسنی، انصاف شاہمیری، شمیم حیات، ساجد ہاشمی، مصطفیٰ شرر، عمران خان، انوراگ بھارت، اورنگزیب اعظم، رضوان بھائی روزنامہ ’ندیم‘، اندر سنگھ ٹھاکر، اشفاق ندیم، ایس ایم مبشر، عادل عماد، کملیش نور، مقصول بھوپالی اور رئیس احمد شامل تھے۔
پرویز اختر نے سال نو کے موقع پر اپنے والد کی تحریری نظم بھی سنائی۔ سامعین میں ناصر جمال اور عاصم حسین فاروقی کے نام شامل ہیں۔
پروگرام کا اہم حصہ اعزازات کی تقسیم رہا۔ بھوپال کے نوجوان ایم ایل اے عاطف عارف عقیل کے ہاتھوں ان شخصیات کو ’’بھوپال ادب ساجد حسن ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا جنہوں نے بھوپال سے نکل کر ہندوستان کی سرحدوں کے پار بھی شہر کا نام روشن کیا۔ ان میں محترمہ نصرت مہدی، وجے تیواری، ثروت زیدی اور عامر اظہر شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے ’تلاش جوہر‘ مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے والوں کا بھی استقبال کیا گیا اور انہیں مبارکباد پیش کی گئی۔ اس موقع پر نصرت مہدی نے ساجد حسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج اندازہ ہوا کہ بھوپال میں نئی نسل کافی اچھی شاعری کر رہی ہے، آپ لوگ انہیں ہمارے سپرد کرتے رہیں اور اکادمی انہیں مواقع فراہم کرتی رہے گی۔ اقبال مسعود نے اپنے صدارتی خطاب میں ساجد حسن اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے 3 گھنٹے طویل اس نشست کو ’’مہا کمبھ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے نصرت مہدی کی تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کی بھی ستائش کی۔ آخر میں ساجد حسن نے اعلان کیا کہ وہ 24 جنوری کو بھوپال میں ایک عظیم الشان آل انڈیا مشاعرے اور اعزازی تقریب کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں۔









