کولکاتا 4ستمبر: جمعرات کو بنگال اسمبلی میں ایسا ماحول بنا جیسے جمہوریت کے بجائے ریسلنگ کے مقابلے کا اسٹیج بنایا گیا ہو۔ ٹی ایم سی اور بی جے پی کے ایم ایل اے آپس میں اس حد تک ٹکرا گئے کہ بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ اسپیکر بیمان بنرجی کے بار بار انتباہ کے باوجود جب ہنگامہ نہیں رکا تو انہوں نے بی جے پی کے 5 ایم ایل ایز کو معطل کردیا۔ بعد میں مارشلز کو بلایا گیا، مارشلوں نے بی جے پی ایم ایل اے کو گھسیٹ کر اسمبلی سے باہر کردیا۔ اس دوران کئی ایم ایل اے کے سر پر چوٹیں آئی ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں اسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا نے ان ایم ایل اے کو فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی ۔ دوسری طرف ممتا نے بی جے پی کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ دراصل بدھ سے ہی تصادم کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ CAA اور بنگالی زبان پر گرما گرم بحث کے بعد اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری کو ایوان سے معطل کر دیا گیا۔ اس کے بعد شوبھندو نے خبردار کیا کہ بی جے پی میں صرف ایک نہیں بلکہ 65 شوبھندو ہیں، وہ دکھا دیں گے۔ جمعرات کو اجلاس کے آغاز سے ہی ماحول گرم ہوگیا۔ بی جے پی ایم ایل اے ویل میں اتر آئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ بعض نے بانسری اور ڈھول بجا کر احتجاج بھی کیا۔ اس سے اسمبلی میں عجیب سی صورتحال پیدا ہو گئی۔ حالات اس قدر بگڑ گئے کہ بی جے پی لیڈر شنکر گھوش اور اگنی مترا پال کو معطل کرنا پڑا۔ جب مارشل آئے تو شنکر گھوش کو تقریباً ایوان سے گھسیٹا گیا۔ اس پر بی جے پی ایم ایل اے مزید برہم ہو گئے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی شروع میں بولنے کے لیے کھڑی ہوئیں، لیکن شور کی وجہ سے بیٹھ گئیں۔ پھر غصے میں انہوں نے خود ہی بی جے پی کے خلاف نعرے لگائے… ایک، دو، تین، چار… بی جے پی سب سے بڑا چور ہے۔ بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے ممتا نے کہا، بی جے پی چور ہے۔ چوری اور ڈکیتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ ملک کے سب سے بڑے لٹیرے ہیں، یہ ملک کو بیچ رہے ہیں اور فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں۔ بی جے پی نے بنگالی زبان کی توہین کی ہے، عوام انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ بی جے پی گھر گھر ڈرامہ کر رہی ہے، لیکن بنگال کے لوگ اب انہیں جواب دیں گے۔
انہوں نے انہیں چیلنج کرتے ہوئے کہا – بی جے پی اب بنگال سے ختم ہو جائے گی۔ تمہارا وجود باقی نہیں رہے گا۔ اب آپ کے جانے کا وقت آگیا ہے۔ ممتا نے زبان اور شناخت کا مسئلہ اٹھایا اور کہا، بنگالی زبان غیر ملکی نہیں ہے، بلکہ دنیا کی پانچویں بڑی زبان ہے۔ بنگال اور بنگالیوں پر حملے ہوئے ہیں۔ میں انہیں معاف نہیں کروں گی ۔ میں بنگال کی بیٹی ہوں، مجھے کوئی خاموش نہیں کر سکتا۔ بی جے پی کو ایک مطلق العنان اور شیطانی طاقت بتاتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آزادی کی جدوجہد کے دوران انگریزوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا تھا۔









