بھوپال:05؍ستمبر:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ ریاست میں شدید بارش کی وجہ سے کچھ علاقوں میں سیلاب کی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے۔ ایسے میں ہماری سب سے بڑی ترجیح شہریوں کی حفاظت ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت، انتظامیہ، تحصیل کا ہر افسر اور ملازم پوری حساسیت، مستعدی اور اشتراک کے ساتھ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں تعاون کریں۔ کسی بھی شہری کو بحران میں اکیلا نہ چھوڑیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام کلکٹر، پولیس سپرنٹنڈنٹ، ہوم گارڈ، فیلڈ افسر، راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف ایجنسیاں ریاست میں مانسون کے فعال رہنے تک انتہائی چوکس رہیں، محتاط رہیں، خبردار رہیں اور کسی بھی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔وز یراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سنیچرکو ہوم گارڈ دفتر کے ایس ڈی آر ایف اسٹیٹ کمانڈ سینٹر پہنچ کر ریاست کے تمام اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے بات کی اور سب سے ان کے اضلاع میں بارش کی صورتِ حال کی معلومات لے کر جائزہ اجلاس بھی کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کہیں سیلاب کا پانی گھروں تک آ گیا ہے تو متاثرین کو فوری طور پر راحت کیمپوں میں پہنچائیں اور تمام متاثرین کو فوری طور پر کھانا، کپڑا اور ضرورت کا خشک سامان فراہم کریں۔ ساتھ ہی انہیں حکومت کی جانب سے ضابطے کے مطابق امدادی رقم بھی دلائیں۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہی ریاست کے کچھ اضلاع میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو محفوظ نکالنے کے لیے چلائے جا رہے ریسکیو کا لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے معائنہ کیا۔
وزیر اعلیٰ نے پنا، گنا، ریوا، ستنا اور مشرقی مدھیہ پردیش کے اضلاع میں شدید بارش کے سبب پیدا شدہ حالات پر براہِ راست پولیس سپرنٹنڈنٹس، ہوم گارڈ اور بچاؤ ٹیم کے افسران سے بات کی۔ بتایا گیا کہ پنا کی کلکلہ ندی میں آئے سیلاب کی وجہ سے یہاں اسٹیٹ ڈیزاسٹر ایمرجنسی رسپانس فورس (ایس ڈی ای آر ایف) کی جانب سے ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ میٹنگ میں چیف سکریٹری مسٹر اشوک برنوال، ایڈیشنل چیف سکریٹری محکمہ داخلہ مسٹر سنجے کمار شکلا، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر کیلاش مکوانا، اے ڈی جی ہوم گارڈ محترمہ پرگیہ رچا شریواستو، اے ڈی جی انٹیلی جنس مسٹر انشومن یادو، وزیراعلیٰ کے سکریٹری مسٹر سدام کھاڑے، ایس ڈی ای آر ایف کے اسٹیٹ ہیڈ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے مختلف اضلاع میں بارش سے پیدا شدہ حالات، متاثرہ علاقوں میں جاری راحت اور بچاؤ کے کاموں اور انتظامیہ کی تیاریوں کی معلومات لیں۔ وزیر اعلیٰ نے ریسکیو آپریشن اور حساس علاقوں میں تعینات ٹیموں کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایات دیں کہ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف اور انتظامی عملہ پوری مستعدی کے ساتھ کام کرے اور ضرورت پڑنے پر متاثرہ لوگوں تک فوری طور پر راحت اور بچاؤ پہنچایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے افسران کو ریاست کے باشندوں کی حفاظت کو سب سے بڑی ترجیح دیتے ہوئے آفات سے نمٹنے سے متعلق انتظامات کی مسلسل نگرانی، محکموں کے درمیان بہتراشتراک اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائییقینی بنانے کی ہدایات دیں۔
میڈیا نمائندوں سے بات چیت
اضلاع کے افسران کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ ہدایات دینے کے بعد وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ریاست میں تقریباً پورے علاقے میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ مغربی مدھیہ پردیش کو چھوڑ کر ریاست کے بیشتر حصوں میں اچھی بارش ہوئی ہے۔ اس کے پیش نظر این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں پوری مستعدی کے ساتھ مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں آفات سے نمٹنے والی ٹیموں کی مدد سے 2,783 سے زیادہ لوگوں کو کامیابی کے ساتھ ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ فی الحال اگلے دو چار دنوں میں کسی بڑے چیلنج کی صورتِ حال نہیں ہے، لیکن اچانک سیلاب جیسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری تیاریاں پہلے سے یقینی بنائی گئی ہیں۔ ہماری انہی تیاریوں کا نتیجہ ہے کہ اب تک ریاست میں جان و مال کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس فورس اور راحت ٹیموں نے بھی پوری کارکردگی اور مستعدی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ آنے والے دنوں میں بارش کے امکان کو دیکھتے ہوئے ہم مسلسل چوکس ہیں اور انتظامات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں آج ریاست میں سیلاب سے متعلق آفات کے انتظام کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری اور مؤثر کارروائی یقینی بناتے ہوئے ریاست کے باشندوں کی جان و مال اور مویشیوں کی حفاظت برقرار رکھی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے سب سے بات چیت کرکے اپنی تیاریوں کو مزید بہتر کر لیا ہے۔









