بریلی 27ستمبر: اتر پردیش کے بریلی شہر میں جمعہ (26 ستمبر) کی نماز کے بعد پیش آئے تشدد کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اتحادِ ملت کونسل (آئی ایم سی) کے سربراہ مولانا توقیر رضا کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور عدالت کے حکم پر انہیں 14 دن کی عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں مجموعی طور پر 10 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جن میں سے 7 میں براہِ راست مولانا کا نام شامل ہے۔ بریلی پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد ہجوم نے پولیس فورس کے ساتھ دھکا مکی کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 8 افراد کو گرفتار کیا، جن میں مولانا توقیر رضا بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 39 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 7 دنوں سے اس واقعے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی اور اس سازش میں بیرونی عناصر بھی شامل ہیں۔ پولیس نے مختلف مقامات سے چاقو، تمباکو کے دیسی اسلحے، بلیڈ اور پٹرول کی بوتلیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بریلی کے ایس ایس پی انوراگ آریہ نے کہا کہ یہ واقعہ محض اتفاقی نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سازش رچنے والوں نے سوشل میڈیا اور مختلف اجلاسوں کے ذریعے ماحول کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ یہ احتجاج کانپور میں عیدمیلادانبیؐ کے موقع پر نصب کئے گئے ’آئی لو محمدؐ‘ کے پوسٹر کے بعد متعدد افراد کے خلاف پولیس کے ذریعے کی گئی کارروائی پر ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے کیا جا رہا تھا۔









