باغپت، 16 دسمبر : گزشتہ شب معروف ادیب و شاعر مرحوم متین طارق باغپتی کی یاد میں اہلیان باغپت اور متین طارق تعلیمی مرکز کی جانب سے ایک شاندار مشاعرہ کا انعقاد واتساہن پیلیس باغپت میں منعقد کیا گیا جس میں ملک کے ممتاز شعر اور ادیبوں نے اپنے کلام اور تقاریر سے متین طارق صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔ مشاعرہ کی صدارت ہندی کے معروف کوی ڈاکٹر چیتن آنند نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر ادریس احمد ڈائریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نے شرکت کر کے متین طارق کے فن پر پرمغز گفتگو کی۔ پروفیسر پرویز عالم اور ڈاکٹر محمد مستمر نے بھی متین طارق صاحب کی شخصیت کے حوالے سے بہت سے واقعات اور کارناموں کو تفصیل سے سامعین کے سامنے رکھا، جن شعرائے کرام نے شرکت کی ان کا کلام حاضر خدمت ہے:
قلم قلم ہے قلم کی زبان نہیں ہوتی
قلم کا درد تمہاری زباں سے بولے گا
ڈاکٹر چیتن آنند
ابھی ہجوم ہے اس کو جلوس بننے دو
ترے خلاف ترا مہربان بولے گا
ڈاکٹر ذکی طارق
جب لوگ اتحاد کے سانچے میں ڈھل گئے
پھر یوں ہوا چراغ ہواؤں میں جل گئے
وارث وارثی
چراغ فکر ادب کے حصار میں رکھا
غزل کو ہم نے غزل کے دیار میں رکھا
کوثر زیدی کیرانوی
پچھلی… معاف کرانے کی ضد پر ہے
اب کے ہوا چراغ جلانے کی ضد پہ ہے
قاری حسین دلکش
قیامت سر اٹھائے پھر رہی ہے
پرندے گھر بسانا چاہتے ہیں
شرف نانپاروی
تم برگد ہو تم کیا جانو دکھ گملوں کے پودوں کا
کٹتے چھنٹتے رہنا ہے اور خود کو زندہ رکھنا ہے
ارشد ضیاء
چھوڑ گیا تو غم کیسا
دنیا آنی جانی ہے
عارف عتیب
جگنو ہوں اس کے قد کے برابر نہیں ہوں میں
سورج کا پھر بھی شکر ہے نو کرنہیں ہوں میں
چاند دیوبندی
ظالم ہے کہ ابتک بھی پشیمان نہیں ہے
اس دور میں سچ بولنا آسان نہیں ہے
انصار صدیقی
ان کے علاوہ ڈاکٹر مستمر تالش خیرآبادی، وسیم جہانگیر آبادی، ناظم علی عدم، شعیب جلال، انور غازی آبادی خوشتر متینی نے سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ کیا وہیں شہرکے معززین پنڈت راج پال شرما، ایڈوکیٹ عارف بیگ، ڈاکٹر پرویز عالم، ذکر الرحمن ایڈوکیٹ شفاعت علی، ارشاد خاں، حفیظ ملتانی، کوہ نور، حافظ شبیر، حافظ اقبال، اجے شرما اور مہربان ترلینی وغیرہ حاضر رہے۔ آخر میں کنوینر اسد خان نے سب کا شکریہ ادا کیا۔









