بھوپال 20اگست: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ صحافت رابطے کی ایک شکل ہے اور ہر دور میں ابلاغ کا فن خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ رامائن کے دور میں ہنومان جی کا مکالمہ ہو یا مہابھارت کے دور میں یکش کا سوال، دونوں میں ہوئے رابطے نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ابلاغ اور صحافت میں کسی بھی واقعہ کی تاثیر کو وسیع یا لطیف شکل دینے کی گنجائش ہوتی ہے۔ موجودہ اور مستقبل کے دور میں صحافت کی صنف میں مہارت حاصل کرنے والے طلباء پر یہ ایک اہم ذمہ داری ہے کہ وہ معلوماتی ابلاغ کے ذریعہ معاشرے کی اخلاقی اقدار اور جمہوری نظام کی بہتر صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمہ وقت چوکنا، متحرک اور تیار رہیں۔ صحافت کی بھرپور شکل حق کی جدوجہد سے ہی زندہ رہے گی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ماکھن لال چترویدی قومی صحافتی یونیورسٹی کے سال 2025-26کے سیشن کے آغاز اور نئے طلباء کے لیے روشن خیالی پروگرام ابھیودیہ 2025سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے منتروچاریہ کے درمیان دیا روشن کرکے پروگرام کا آغاز کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ صحافت کے شعبہ میں ‘ابھیودیہ کا معنی محض آغاز نہیں ، بلکہ مسلسل بیداری، سچائی کی تلاش اورسماج کو نئی سمت دینے والی ذمہ داری کا سفر ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب میں گرو کو لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جانے کا ذریعہ ماناگیاہے۔ گرو کے اس وقار کو قائم کرنے کے مقصد سے ہی ریاست کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر کے بجائے ’کل گرو‘ کا لفظ استعمال کرنے کی روایت شروع کی۔ یہ ہماری تعلیمی روایت میں گرو کو اعلیٰ مقام دینے کی علامت ہے۔
ریاستی حکومت ہندوستانی علمی روایت کے ساتھ ساتھ ملک کی ثقافت کے تئیں بھی حساس ہے۔ ہمارے ہر تہوار میں کوئی نہ کوئی پیغام پنہاہے، تاکہ عام لوگ ان پیغامات میں موجود مفہوم کو سمجھیں، اس مقصد کے ساتھ ریاستی حکومت نے تمام تہواروں کو شان و شوکت کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں وجے دشمی کو صرف راون دہن تک محدود نہیں رکھتے ہوئے اس اہم تہوار پر ہتھیاروں کی پوجا بھی شروع کردی گئی ہے۔