پالیکیلے، 17 فروری(یو این آئی ) آئرلینڈ اور زمبابوے کے درمیان کھیلا جانے والا اہم میچ مسلسل بارش کی نذر ہوگیا، جس کے نتیجے میں زمبابوے نے ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے ‘سپر ایٹ’ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے، جبکہ آسٹریلیا اور آئرلینڈ کی ٹیمیں ایونٹ سے باہر ہوگئی ہیں۔2021 کی عالمی چیمپئن ٹیم کے رواں ایونٹ میں سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے کا انحصار صرف زمبابوے کے بقیہ میچز میں شکست پر تھا۔ آسٹریلیا کے صرف دو پوائنٹس ہیں اور اس کا صرف ایک میچ عمان سے باقی ہے، یوں اگر کینگروز وہ میچ جیت بھی جائیں تب بھی صرف مجموعی طور پر چار پوائنٹس حاصل کر پائیں گے۔اس طرح زمبابوے کی ٹیم 5 پوائنٹس کے ساتھ ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پہنچ گئی۔اس سے قبل 2009 میں رکی پونٹنگ کی کپتانی میں ٹیم لیگ مرحلے سے باہر ہو گئی تھی۔2024 کے ورلڈ کپ سے باہر رہنے والی زمبابوے کی ٹیم نے آج ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سپر 8 مرحلے میں کوالیفائی کرنے کے بعد اب زمبابوے کا سفر مزید دلچسپ اور مشکل ہونے والا ہے۔ اگلے مرحلے میں زمبابوے کا مقابلہ کرکٹ کی عالمی طاقتوں ہندوستان، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز سے ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جس فارم اور جذبے کے ساتھ زمبابوے کھیل رہی ہے، وہ بڑے برج الٹانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آپ کو بتا دوں کہ پالیکیلے میں بارش کے باعث کھیل کا آغاز ممکن نہ ہو سکا اور امپائرز نے دونوں کپتانوں کی مشاورت کے بعد میچ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بوندا باندی نہ رکنے کی وجہ سے میچ کو باقاعدہ طور پر ‘کال آف’ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی زمبابوے کو ملنے والے پوائنٹ نے انہیں اگلے مرحلے میں پہنچا دیا ہے، جبکہ سابق چیمپئن آسٹریلیا اور آئرلینڈ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔
مقامی وقت کے مطابق شام 5:29 بجے امپائرز نے میچ ریفری سے مشاورت کے بعد سکندر رضا اور آئرش کپتان ٹکر کو طلب کیا۔ دونوں کپتانوں کے درمیان مصافحہ اس بات کا اعلان تھا کہ اب میدان میں مزید کرکٹ ممکن نہیں۔ تکنیکی طور پر یہ میچ برابر رہا، لیکن عملی طور پر یہ جیت زمبابوے کے نام رہی جس نے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی برتری کی بدولت تاریخ رقم کر دی ہے۔کرکٹ کی تاریخ میں یہ ایک نادر واقعہ ہے کہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کسی ایسوسی ایٹ یا کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے مقابلے میں رن ریٹ اور بارش کی وجہ سے پہلے ہی مرحلے میں باہر ہو جائے۔ آسٹریلوی کیمپ میں اس وقت مایوسی کا عالم ہے، کیونکہ ان کی تمام تر امیدیں اس میچ کے نتیجے اور موسم پر ٹکی ہوئی تھیں، جو بالآخر ان کے خلاف گیا۔موجودہ ورلڈ کپ میں منسوخ ہونے والا یہ پہلا میچ ہے۔ ٹورنامنٹ کی تاریخ میں اب تک آٹھ میچ منسوخ ہو چکے ہیں۔ 2016 کے ایڈیشن میں دو میچ منسوخ ہوئے تھے۔ 2007، 2010، 2012، 2022 اور 2024 میں بھی ایک ایک میچ منسوخ کر دیا گیا تھا۔ دوسری جانب ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے باوجود آئرلینڈ کے کھلاڑیوں نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔
سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے آئرش کھلاڑیوں نے اپنے ان مداحوں کے لیے تالیاں بجائیں جو موسلا دھار بارش اور ابر آلود موسم میں بھی اپنی ٹیم کی ہمت بڑھانے کے لیے اسٹیڈیم میں موجود رہے۔ آئرلینڈ کے لیے یہ دورہ مایوس کن رہا، لیکن ان کے مداحوں کے جذبے نے سب کے دل جیت لیے۔









