اورنگ آباد 16فروری(پریس ریلیز)کنٹونمنٹ اردو ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرانتظام چلنے والے ایڈیڈ اردو پرائمری وہائی اسکول،چھاؤنی اورنگ آبادکے زیراہتمام آٹھواں سالانہ جشن روایتی اندازمیں تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا ۔اجتنابھون میں منعقدہ تقریب میں عمائدین شہر کے ساتھ بڑی تعدادمیں ماہرین تعلیم،اردو کے نامور شعرا و ادبا نے شرکت کی اور محفل کے وقارمیں اضافہ کیا۔سالانہ جشن کے موقع پر باوقار کل ہند مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں ملک کے نامور شعرا نے شرکت کی اور اپنی بہترین شاعری سے سامعین کو محظوظ کیا۔
اجنتا بھون چھاؤنی میں منعقدہ با وقارتقریب کی صدارت کے فرائض ماہر تعلیم و ممتاز سماجی کارکن اشفاق خان نے انجام دیئے۔جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر شعیب خسرو(ایڈیٹر اورنگ آباد ٹائمس)شریک ہوئے۔پروگرام کے دیگرمعزز مہمانان میں ڈاکٹر حامد چاؤسہ،(صدر اقلیتی محکمہ مراٹھواڑہ)، ڈاکٹر ایم اےباری(ریٹائرڈ وائس پرنسپل،مولانا آزاد کالج اورنگ آباد)،عاصم شیخ ایل ایل ایم( اورنگ آباد ہائی کورٹ)،معراج خان(کارپوریٹر اورنگ آبادمیونسپل کارپوریشن )،ویویک جادھو(پی آئی چھاؤنی پولیس اسٹیشن )نائب صدرعمر خان (اردو پرائمری اسکول چھاؤنی)،خلیل سر وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔اسکول کے سالانہ جشن کے پروگرام کا آغازطلبا وطالبات کی جانب سے قومی نظم اور ثقافتیپروگراموں سے کیا گیا،جسے سامعین نے خوب پسند کیا۔طلبا کی بہترین کارکردگی کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی اوراسے ملک کے مستقبل سے تعبیر کیا گیا۔
اسکول کے سالانہ جشن کے موقع پرمنعقدہ کل ہند مشاعرہ کو ممتاز سماجی کارکن اشفاق خان کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ایک شام اشفاق خان کے نام سے منعقدہ کل ہند مشاعرہ کی صدارت کے فرائض مشہور شاعر نعیم اخترخادمی نے انجام دئے جبکہ ممتاز محقق،نامور صحافی ڈاکٹرمہتاب عالم نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ڈاکٹرمہتاب عالم نے کل ہندمشاعرہ کی نظامت کے فرائض کو انجام دیتے ہوئے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اورنگ آباد کے کردار کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تاریخی سرزمین ہے جہاں ولی اورنگ آبادی پیدا ہوئے اور انہوں نے اردو شاعری کے کارواں کی بنیادرکھی۔ولی کے جانشین سراج اورنگ آبادی نے اپنے تحیر عشق سے اہل اردو کو ایسا با خبر کیا کہ تغیر زمانہ کے باؤجود ان کی معنویت آج تک برقرار ہے۔یہی نہیں اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ لطف النسا امتیاز کا تعلق ابھی اسی سر زمین سے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایڈیڈ اردو پرائمری اسکول کی بنیادی 1931میں رکھی گئی تھی،اس عرصے میں اس اسکول نے نہ صرف اردو تعلیم بلکہ اردو زبان کی آبیاری میں جو کلیدی کردار ادا کیاہے اسے کبھی فراموش نہیں کیاجا سکتا ہے۔
کل ہندمشاعرہ کا آغاز کرنے سے قبل شعرا ومہمانان کا اسکول انتظامیہ کی جانب سے شال اور پھولوں کا گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا گیا۔پروگرام کے اس حصے کی نظامت کے فرائض اسکول کے استاد شعیب خان نے بحسن و خوبی انجام دیئے۔کل ہند مشاعرہ کا آغاز ڈاکٹر خالد نئیر کی نعت پاک سے کیا گیا۔اس کے بعد بہاریہ دور کا آغاز عمران فارس کے کلام سے کیا گیا۔عمران فارس نے اپنی بہترین شاعری سے مشاعرہ کا جو سماں باندھا وہ آخر تک بلند ہوتا گیا،اورجب مشاعرہ کے کنوینر عمرآعظمی کودعوت سخن دی گئی تو انہوں نے مشاعرہ کو ایک نئی بلندی عطا کی۔
کل ہند مشاعرہ میں جن شعرا نے اپنے بہترین کلام سے مشاعرہ کے وقار میں اضافہ کیا اس میں نمایاں طور پر ڈاکٹر مہتاب عالم (بھوپال)،نعیم اختر خادمی (برہانپور)،عمر اعظمی( جلگاؤں)،شعور آشنا (برہانپور)، طارف نیازی(ممبئی)، منان فراز(جبلپور)، مشیر انصاری(ممبئی)، ڈاکٹر خالد نیئر(امراؤتی)، یوسف یلغار (ممبئی)، عمران فارس(جلگاؤں کے نام قابل ذکر ہیں۔اس موقع اسکول کی پرنسپل امرین اختر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے ادبی وتعلیمی پروگرام طلبا میں اعتماد اور شعور بیدارکرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔امرین اختر نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے مشاعرہ کو آئندہ تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔









