بدر الدین طیب جی بھارت کی جنگ آزادی کے ایک مجاہد، سیاست داں اور وکیل تھے ۔ آپ 10 اکتوبر1844 کو بمبئی (اب ممبئی) میں پیدا ہوئے۔ بدرالدین طیب جی ایک دولت مند مسلم (سلیمانی بوہرہ فرقہ) خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے انگلینڈ گئے اور دسمبر 1867 میں بیرسٹر بن کر وطن واپس آئے۔ بدرالدین طیب جی نے بمبئی ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی اور انہیں بمبئی ہائی کورٹ کے پہلے ہندوستانی بیرسٹر ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا ، کیونکہ اُس وقت تک بمبئی ہائی کورٹ میں کوئی ہندوستانی وکیل یا جج نہیں تھا۔1873 میں بدر الدین میونسپل کارپوریشن کے لے منتخب ہوئے ۔ مسلمانوں میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے 1874 میں طیب جی بمبئی میں انجمن اسلام کالج کی بنیاد رکھی جس کی آج 80 سے زیادہ شاخیں پرائمری سے گریجوئیٹ اور پوسٹ گریجوئیٹ تک تعلیم کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔
1875سے 1905 تک بدر الدین طیب جی یونیورسٹی آف بمبئی سینیٹ کے رکن رہے۔1882 میں بمبئی قانون ساز کونسل کے لئے مامزد کئے گئے لیکن 1886 میں خرابی صحت کی وجہ سے استعفی دے دیا۔1885میں فیروز شاہ مہتا،دادابھائی نیروجی،اومیش بنرجی اور کے ٹی تیلنگ کے ساتھ مل کر“بمبئی پریسیڈنسی ایسو سی ایشن“ کی تشکیل دی، اس تنظیم نے ہندوستانی مفادات کے لئے آواز بلند کی۔بدر الدین طیب جی انڈین نیشنل کانگریس کے بانی ممبران میں سےایک تھے اور انہوں نے 1885 میں بمبئی میں منعقد انڈین نیشنل کانگریس کے پہلے اجلاس کی میزبانی بھی کی۔1887 میں مدراس(چینئی) میں منعقد ہوئے انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے اجلاس میں بدرالدین طیب جی کو کانگریس کا صدر چنا گیا، وہ کانگریس کے مجموعی طور پر
تیسرے اور پہلے مسلم صدر تھے۔وہ مسلمانوں پر اثر انداز ہونے والے معاملات پر گہرائی سے غور و فکر کرتے تھے اورشہر کے مسلمانوں کے درمیان سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے بدر الدین طیب جی نے “اسلام کلب“ اور “اسلام جمخانہ“ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔1895میں انہیں بمبئی ہائی کورٹ کا جج اور 1902 میں قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا۔جج کے عہدے پر رہتے ہوئے بدرالدین طیب جی نے ملک سے غداری کے مقدمہ میں جیل میں بند عظیم مجاہد آزادی بال گنگادھر تلک کو ضمانت
پر رہا کرنے کا فیصلہ سنایا۔ 19اگست 1906کولندن میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے بدرالدین طیب جی کا انتقال ہوا۔