احمد آباد، 21 فروری (یو این آئی) آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے میں ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ ہونے والا ہے، جب کرکٹ کی دو بڑی ٹیمیں ہندستان اور جنوبی افریقہ اتوار کے روز نریندرمودی اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گی۔دونوں ٹیمیں ابھی تک لیگ مرحلے میں ناقابل شکست ہیں، اس لیے یہ میچ صرف پوائنٹس کے لیے نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ ہندستان اپنے گھریلو ریکارڈ کے ساتھ بھرپور اعتماد کے ساتھ اترا ہے، کیونکہ اس نے اس اسٹیڈیم پر کھیلے گئے تمام سات ٹی20 میچ اپنے نام کئے ہیں۔ لیکن پروٹیز اپنی ریکوری کے مشن کے ساتھ آئے ہیں، کیونکہ انہوں نے یہاں اپنے آخری تین ٹی20 میچ جیتے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ کوئی بھی جیت کا سلسلہ ناقابل شکست نہیں ہوتا۔ جنوبی افریقی ٹیم بھی اپنی پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ادھر ہندستان کی بلے بازی خاص طور پر متاثر کن رہی ہے۔ ایشان کیشن 176 رن بناکر لیڈ کررہے ہیں جو شروعات سے ہی کھیل پر قبضہ جمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سوریا کمار یادو، جو اس اسٹیڈیم کے ماہر ہیں، چھ میچز میں 162 رنز بنا چکے ہیں، جو فلیٹ ٹریک پر بیٹنگ میں استحکام اور اپنی ٹائمنگ کے لئے جانے جاتے ہیں۔ شِوام ڈوبے نے فِنِشر کا کردار ادا کیا ہے، ان کا اسٹرائیک ریٹ 178 سے زیادہ ہے، جو اچھے ٹوٹل کو شاندار بنا سکتا ہے۔ تاہم، ہندستان کی بیٹنگ لائن میں کچھ چیلنجز بھی ہیں: اوپر کے بیٹسمین زیادہ تر بائیں ہاتھ کے ہیں، جو جنوبی افریقہ کی مختلف قسم کی بالنگ کے لیے کمزوری ثابت ہوسکتے ہیں۔ ابھیشیک شرما کی کم فارم تشویش کا باعث ہے۔ اگر موقع دیا جائے تو سنجو سمیسن خاص طور پر اسپن بھری درمیانی اوورز کے خلاف زبردست کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر گیند بازی کے شعبے کی طرف دیکھیں تو ہندستان بالنگ اٹیک میں متوازن نظر آتا ہے۔ ورون چکرورتی نے اب تک نو وکٹیں حاصل کی ہیں ، اکشر پٹیل نے چھ وکٹیں حاصل کی ہیں ، اس طرح، اسپن گیند بازی ہندستان کی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے۔ ہندستان کے تیز گیند باز جسپرِت بومرا اور ارشدیپ سنگھ خاص طور پر آخری اوورز میں گیند بازی کے ذمہ دار ہیں۔ ٹاس اس مقابلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ احمد آباد میں رات کے میچز میں عام طور پر پچھاڑنے والی ٹیموں کو تھوڑا سا فائدہ ملتا ہے۔ ٹاس جیتنے والا کپتان اکثر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے تاکہ لائٹس کے تحت حالات کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
جنوبی افریقہ کی کارکردگی بھی متاثر کن رہی ہے، ٹیم میں گہرائی اور مستقل مزاجی دیکھی گئی ہے۔ کپتان ایڈن مارکرام نے 178 رنز بنا کر قیادت کی، جبکہ رائین ریکلٹن اور ڈیووالڈ بریوس نے اوپر کے بیٹنگ آرڈر میں ان کا ساتھ دیا۔
مڈل آرڈر میں ڈیوڈ ملر اور ٹریسٹن اسٹبز شامل ہیں، جو اسپن کے خلاف تجربہ اور جارحیت دونوں فراہم کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اننگز کو تیز کر سکتے ہیں۔
حالانکہ جنوبی افریقہ کے گیند بازی کے شعبے میں کچھ مسائل بھی ہیں۔ کگیسو رابادا کو مشکلات کا سامنا رہا ہے، صرف دو وکٹیں حاصل کی ہیں ۔لنگی نگیدی اپنی ویری ایشنز کے ساتھ شاندار رہے ہیں۔انہوں ھے تین میچز میں آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں ۔ تو دوسری طرف مارکو یانسن نے اہم لمحات میں وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کو سہارا دیا ہے ۔پروٹیز کو ہندستان کے مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو چیلنج کرنے کے لیے ہر بولر کا بہترین مظاہرہ کرنا ہوگا۔ پچ اور موسم کی بات کی جائے تو احمد آباد کی پچ ہموار اور پر اثر ہے، گیند بیٹ پر اچھے سے آتی ہے ۔ عام اسکور 200-210 کے درمیان متوقع ہے ۔ فاسٹ بولرز کو کچھ سپورٹ ملے گی اور اسپنرز درمیانی اوورز کنٹرول کریں گے ۔