بھوپال:20؍دسمبر:آج بروز سنیچر، دنیا نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا جسے محض ایک مباحثہ کہنا حقیقت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا، بلکہ یہ وجودِ باری تعالیٰ پر حق و باطل کی آمنے سامنے ٹکر تھی، قابلِ احترام جناب مفتی محمد شمائل صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ اور ملحد جاوید اختر کے درمیان ہونے والی یہ ڈیبیٹ محض الفاظ کا تبادلہ نہیں تھی، بلکہ یہ عقلِ سلیم اور الحادِ بے بنیاد کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھی، جس میں انجام شروع ہی کے لمحات میں واضح ہو گیا تھا۔ڈیبیٹ کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں یہ حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہو گئی کہ ایک طرف دلیل، ترتیب، فکری گہرائی اور علمی وقار ہے اور دوسری طرف محض دعوے، جذباتی جملے اور فرسودہ شبہات۔ مفتی محمد شمائل صاحب نے نہ آواز بلند کی، نہ طنز و تمسخر کا سہارا لیا، بلکہ نہایت سکون، متانت اور علمی اعتماد کے ساتھ وجودِ باری تعالیٰ پر ایسے بنیادی سوالات قائم کیے کہ الحاد کی پوری عمارت لرزنے لگی، دلیل پر دلیل رکھی جاتی رہی، سوال کے بعد سوال آتا رہا، اور سامنے بیٹھا ملحد ان سوالات کے بوجھ تلے بتدریج بوکھلاہٹ کا شکار ہوتا چلا گیا۔
دنیا نے صاف دیکھا کہ ملحد کے پاس نہ تو کائنات کے وجود کی معقول توجیہ تھی، نہ شعور و اخلاق کی کوئی مضبوط بنیاد، نہ علت و معلول کے سلسلے کا کوئی منطقی اختتام، بات جب بھی گہرائی کی طرف بڑھتی، وہاں خاموشی چھا جاتی یا موضوع بدلنے کی کوشش کی جاتی، یہ وہ لمحے تھے جہاں الحاد کے پرخچے اڑتے ہوئے نظر آئے اور باطل اپنی کمزوریوں سمیت بے نقاب ہوتا چلا گیا، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے نظریات نہیں، بلکہ محض ہوا میں معلق مفروضے دفاع کی ناکام کوشش کر رہے ہوں۔اس پوری ڈیبیٹ کے دوران بار بار یہ منظر سامنے آیا کہ ایک طرف وحی سے منور عقل ہے جو سوال بھی پیدا کرتی ہے اور جواب بھی دیتی ہے، اور دوسری طرف وہ فکر ہے جو سوال تو اٹھاتی ہے مگر جواب دیتے وقت خود سوال بن جاتی ہے، یہی وہ مقام تھا جہاں دنیا نے عملاً دیکھ لیا کہ الاسلام يعلو ولا يُعل علي کوئی نعرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ ملحد کا انداز رفتہ رفتہ الجھاؤ، اضطراب اور ذہنی شکست کی علامت بن گیا اور ڈیبیٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے ہی فیصلہ سنا چکی تھی۔
اس موقع پر یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ الحاد کے مقابلے میں فکری محاذ پر مسلسل جدوجہد کرنے والی قابلِ احترام شخصیت جناب مفتی یاسر ندیم الواجدی زیدہ مجدہ کی موجودگی نے اس علمی فضا کو مزید مضبوط کیا، ان کی فکری سرپرستی اور الحاد کے خلاف طویل علمی معرکوں کا پس منظر اس ڈیبیٹ میں نمایاں طور پر محسوس کیا جا رہا تھا، گویا یہ ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پوری فکری روایت کی نمائندگی تھی جو پورے اعتماد کے ساتھ میدان میں موجود تھی۔
یہ ڈیبیٹ درحقیقت امت کے نوجوانوں کے لیے ایک واضح پیغام بن کر سامنے آئی کہ ایمان کمزور منطق کا محتاج نہیں اور اسلام کسی اندھے عقیدے کا نام نہیں، بلکہ وہ دین ہے جو سوال سے گھبراتا نہیں بلکہ سوال کو دلیل سے جواب دیتا ہے، آج پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا، اس لیے نہیں کہ کسی کو نیچا دکھایا گیا، بلکہ اس لیے کہ حق کو وقار، علم اور حکمت کے ساتھ پیش کیا گیا اور باطل اپنی ناتوانی کے سبب خود ہی بے وزن ہو کر رہ گیا۔ہم دل کی گہرائیوں سے قابلِ احترام مفتی محمد شمائل صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ کو اس تاریخی اور یادگار علمی فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی مفتی یاسر ندیم الواجدی زیدہ مجدہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ جن کی موجودگی میں الحاد آج پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا، اللہ تعالیٰ ان حضرات کے علم، اخلاص اور جدوجہد کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں امت کے لیے فتنوں کے اس دور میں حق کی مضبوط آواز بنائے رکھے۔









