نئی دہلی15اکتوبر: کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو خط لکھ کر اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے دُشینت گوتم کی سکم کے گورنر کے عہدے پر تقرری پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں، دشینت گوتم کو گورنر کا عہدہ سنبھالنے کی اجازت نہ دی جائے۔ راہل گاندھی نے 15 اکتوبر 2026 کو لکھے گئے خط میں کہا کہ انکیتا بھنڈاری کے قتل کے چار سال بعد بھی یہ سوال برقرار ہے کہ اس معاملے میں شامل وی آئی پی کون تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کی سست رفتار تحقیقات کے باعث اب تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، 19 سالہ انکیتا بھنڈاری 18 ستمبر 2022 کو قتل کر دی گئی تھی۔ وہ رشی کیش کے قریب واقع ونانترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھی۔ راہل گاندھی نے خط میں الزام لگایا کہ ریزورٹ کے مالک پلکت آریہ، جو بی جے پی کے ایک رہنما کا بیٹے ہے، نے انکیتا پر ایک وی آئی پی مہمان کو خصوصی خدمات فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ انکیتا کے انکار کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں پلکت آریہ اور اس کے دو ملازمین کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ راہل گاندھی نے خط میں کہا کہ انکیتا کے اہل خانہ سمیت کئی افراد کا الزام ہے کہ دشینت گوتم کا اس معاملے سے تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوتم کی گورنر کے عہدے پر تقرری سے وہ حیران ہیں، کیونکہ گورنر کو آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور عہدے پر فائز رہنے کے دوران ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے یا جاری رکھنے میں قانونی رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔
انہوں نے صدر جمہوریہ سے اپیل کی کہ وہ مرکزی حکومت کو اس تقرری پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت گوتم کو عہدہ سنبھالنے سے روکا جائے۔