بھوپال:10؍مارچ:گورنر مسٹر منگو بھائی پٹیل نے کہا ہے کہ ہمہ جہت شخصیت کی ترقی کے لیے علم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، حساسیت اور خدمت کا جذبہ ہونا بھی ضروری ہے۔ زندگی میں بڑا بننا اچھی بات ہے، لیکن اچھا انسان ہونا اس سے بھی زیادہ بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ودیا بھارتی کے اسکولوں کے سابق طلبہ اور اساتذہ تعلیم کے میدان میں بامقصد اور انسانی فلاح سے جڑے مقدس کاموں میں تعاون کر رہے ہیں، جو ودیا بھارتی کے سنسکاروں کا خوشگوار نتیجہ ہے۔ ودیا بھارتی کے سابق طلبہ نے سائنس، انتظامیہ، تعلیم، سماجی خدمت اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
گورنر مسٹر پٹیل ودیا بھارتی مدھیہ بھارت پرانت کے بھاؤراؤ دیورس سیوا نیاس کے زیرِ انتظام مرحوم ارچنا شکلا اسمرتی امتحانات کی تیاری کے ادارے ‘‘سمتکرش’’ کے دوسرے سیشن کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ پروگرام کا انعقاد سرسوتی ودیا پرتشتھان پرگیا دیپ، ہرش وردھن نگر میں کیا گیا۔ پروگرام میں ودیا بھارتی مدھیہ بھارت پرانت کے سنگٹھن منتری مسٹر نکھلیش مہیشوری اور بھاؤراؤ دیورس سیوا نیاس کے صدر مسٹر بنواری لال سکسینہ اسٹیج پر موجود تھے۔
گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ ‘‘تیرا ویبھو امر رہے ماں، ہم دن چار رہیں نہ رہیں’’ جیسی سوچ اخلاص، قربانی اور بے لوث جذبے کے ساتھ سماج اور قوم کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرنے کی ترغیب ودیا بھارتی کی تعلیم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز اور دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو تلاش کرنے اور انہیں نکھارنے کی کوششوں کو مزید وسیع کیا جانا چاہیے۔ قوم سب سے بالا تر کے نظریات کو معاشرے میں وسیع پیمانے پر پھیلانے کی کوششوں کو بھی مزید وسعت دی جانی چاہیے۔گورنر مسٹر پٹیل نے کہا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے صلاحیتیں مواقع سے محروم نہ رہیں، اس مقصد کے لیے امتحان کی تیاری کی یہ پہل قابلِ ستائش ہے۔ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کے ‘‘پریکشا پہ چرچا’’ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ اور خود کفیل بھارت کی تعمیر میں سب کا ساتھ اور سب کا اعتماد بہت اہم ہے۔ انہوں نے دانشور طبقے سے اپیل کی کہ وہ غریب اور محروم طبقات کے باصلاحیت طلبہ کو ادارہ جاتی مہارت سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں۔ طلبہ سے انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ خاندان، ودیا بھارتی اور ادارے سے حاصل ہونے والے علم اور اقدار کو یاد رکھیں اور انہیں اپنے عمل میں اپنائیں۔ ادارے کی جانب سے مستقبل کی تعمیر کے لیے کیے جا رہے تعاون کو زندگی بھر ایک قرض کے طور پر یاد رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر ادارے کی طرف سے گورنر کو یادگاری نشان پیش کر کے ان کا استقبال کیا گیا۔ انہیں کتاب ودیا بھارتی بھی پیش کی گئی۔
ودیا بھارتی کے آل انڈیا صدر مسٹر رویندر کانہرے نے کہا کہ ودیا بھارتی کی جانب سے ملک بھر میں تقریباً 30 ہزار اسکول چلائے جا رہے ہیں۔ تعلیم کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے معیاری بنیادوں پر مبنی جائزہ نظام نافذ کیا گیا ہے۔ جدید تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولوں میں نیٹ ورک کنیکٹیویٹی یقینی بنانے کے لیے نیٹ ورک آپریٹروں کے ساتھ تال میل کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں ودیا بھارتی کا اہم کردار رہا ہے اور بھارتی علمی روایت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے تنظیم مسلسل کام کر رہی ہے۔
پروگرام میں ایس ایس سی میں منتخب ہونے والے مسٹر نتن شرما اور ریاستی سروس کی ابتدائی امتحان میں منتخب ہونے والی مس شالو اہروار نے اپنے تجربات شیئر کیے۔
مسٹر مدھر شرما نے ‘‘آؤ ہم بدلیں ورتمان’’ گیت پیش کیا۔ استقبالیہ خطاب سمتکرش کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے کنوینر مسٹر سدھانشو گوئل نے دیا اور ادارے کی کامیابیوں کی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ کے لیے ہاسٹل کی سہولت فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آخر میں شکریہ ادا اٹل بہاری ہندی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر مسٹر آشیش جوشی نے کیا۔









