انجینئر محمود اقبال
+91 6309727951
’’شرم تم کو مگر نہیں آتی‘‘ ؟ ہم یا آپ کس منہ سے عالمی یومِ خواتین منائیں؟گھنٹے نہ سہی، صرف چند دن ہی گزرے ہیں امریکہ اور اسرئیل نے جنگ کی ابتداء ایران کے میناب شہر کے ایک پرائمری نسواں اسکول پر بمباری کرکے 150سے زیادہ معصوم طالبات و بچیوں کی جا ن لے لی اور دیگر کو شدید زخمی کردیا تھااور دنیا میں کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی؟ میڈیا ہے کہ لمحہ بہ لمحہ جنگ کی خبریں اور سرخیاں چلا رہا ہے ، لیکن معصوم بچیوں کی شہادت پیچھے چلی گئی ہے؟جرم چُپ،مجرم چُپ اور شریکِ جرم بھی چُپ۔۔۔بقول فیض احمد فیض!
بول ، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
لیکن یہ نام نہاد عالمی رہنما کچھ بولیں گے نہیں، انکی زبانوں پر تالے لگ چکے ہیں۔دنیا کی شاید یہ پہلی نرالی جنگ ہے جس کی ابتداء پھولوں اور کلیوں کے روندنے سے شروع ہویٔ ہے۔اس کا اختتام کیسے ہوگا؟معصوموں کی آہوں ، سسکیوں اور بد دعاؤں سے؟ اوپر والا ہی بہتر جانے اور انکا پیدا کرنے والا ہی۔ہم اور آپ صرف خراجِ عقیدت ہی پیش کر سکتے ہیں۔یقینا،یہ خون ضرور رنگ لائیگا ایک نہ ایک دن۔۔۔ عالمی یومِ خواتین 8 مارچ،کو ہر سال دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق، ان کی کامیابیوں اور معاشرے میں ان کے کردار کو تسلیم کرنا اور ان کے مسائل کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے۔یہ دن خواتین کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق اور مساوات کے لیے جدوجہد کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔
اس سال کا موضوع یعنی،تھیم ہے:’’دینا اور پانا‘‘یا دو تاکہ پاؤ(Give to Gain)۔تاریخی طور پر20ویں صدی کے آغاز میں خواتین مزدوروں نے بہتر کام کے حالات اور حقِ رائے دہی کے لیے تحریکیں شروع کی تھیں۔1910 میں جرمنی کی سوشلسٹ رہنماکلارا زیٹکن نے خواتین کے عالمی دن کی تجویز پیش کی تھی۔1911 میں پہلی بار چند یورپی ممالک میں یہ دن منایا گیا۔بعد میں اقوامِ متحدہ نے 1975 میں اسے باضابطہ طور پر عالمی سطح پر منانا شروع کیا۔اس دن کے مقاصدمیںخواتین کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا،صنفی مساوات کو فروغ دینا،خواتین کی کامیابیوں کو سراہنا،معاشرے میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کرناشامل ہیں۔عالمی یومِ خواتین کے موقع پر سیمینارکانفرنسیس ،تعلیمی و سماجی پروگرام،خواتین کی خدمات کا اعتراف ،میڈیا پر آگاہی مہم چلایٔ جاتی ہیں۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین معاشرے کی ترقی میں مردوں کے برابر اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی حقوق میں مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔لیکن ،ساحر لدھیانوی کی مایوسی؟کیا جائز نہیں ہے؟
عورت نے جنم دیا مردوں کو،مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا، جب جی چاہا دھتکار دیا
مردوں نے عورت کو نہ صرف ’’بازار‘‘ بنادیا بلکہ اب لگتا ہے انکی خون کی ہولی بھی کھیلنی شروع کردی ہے۔گُل کھلنے سے پہلے ہی مُرجھا دئے جارہے ہیں یا نہیں تو جلادئے جارہے ہیں۔’ایپسٹائن فائلس‘‘ کا شرمناک باب کا شور تھما بھی نہ تھا کہ میناب کے اسکول کے در و دیوار معصوم بچیوں کے خون سے لال لال کردئے گئے۔جزیرہ کا جزیرہ ہی عیاشی کا اڈہ بن گیا تھا ۔دنیا بھر کے بڑے بڑے اقتدار کی غلام گردشوں کے نام ایک کے بعد ایک سامنے آتے جارہے ہیں جنہوں نے پھولوں اور کلیوں کو جوانی کی دہلیز پار کرنے سے پہلے ہی نوچا، کھسوٹا اور مسلا ہے۔ تازہ اعتراف مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بِل گیٹ کا بھی ہے۔پتہ نہیں اور کتنے نام نہاد عرب رہنما بھی اس حمام میں ننگے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ انہوںنے اپنی سر زمیں امریکی فوجی اڈوں کے حوالہ کردی ہے اور امریکہ،اسرئیل۔ایران جنگ اور معصوم بچیوں کی شہادت پر ’’چْپّی‘‘ سادھے ہوئے ہیں۔شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے، زندگی کا سوزِ دروں
علامہ اقبالؒ نے بہت پہلے ہی عورت کی اہمیت جتادی تھی کہ اسی کے دم سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ و نور۔آزادی کے بعد ہند۔پاک سمیت دنیا بھر میں نامور مسلم خواتین نے سیاست، تعلیم، سائنس اور سماجی بہبود جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں ہیں۔ قابلِ ذکر ناموں میں بیگم آمنہ نسیم (سیاست)، ڈاکٹر صالحہ عابد حسین (ادب)قرۃ العین حیدر، مشہور ناول نگار جنہیں گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا، ’’آگ کا دریا‘‘ انکا ایک مشہور ناول ہے ۔ عصمت چغتائی (ادب) جیسی خواتین شامل ہیں۔بیگم اعزاز رسول، تقسیم ہند کے بعد واحد مسلم خاتون جو دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) کی رکن تھیں۔نجمہ ہپت اللہ،سیاست دان اور طویل عرصے تک راجیہ سبھا کی ڈپٹی چیئرمین بھی وہ رہیں۔انکے علاوہ،بیگم زلیخا امتیاز، آزادی کے بعد تعلیمی میدان میں سرگرم شخصیت۔شکیلہ بانو بھوپالی،آزادی کے بعد کی مشہور قوال اور فنکار۔یہ خواتین اپنی محنت اور قابلیت کی وجہ سے اپنے اپنے شعبوں میں مشعل راہ بنی ہوئی ہیں۔ ان مستورات نے آزادی کے بعد کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پروفیسر نجمہ خاتون کا نام بھی اس دن قابل ذکر ہے جنہیں علی گڑھ مسلم یونیورستی کی پہلی مسلم خاتون وائس چانسلر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اسی طرح پدماشری پرفیسر نجمہ اختر ہیں جو جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی کی وی سی تھیں۔
موجودہ دور میں مسلم خواتین تعلیم، سیاست، سائنس اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔ نمایاں ناموں میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی (تعلیمی کارکن)،لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ سر گرم دوشیزہ، نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم جاسنڈا آڈرن (جنہوں نے اسلام کے حق میں آواز اٹھائی تھی)۔حلیمہ یعقوب ،سنگاپور کی پہلی خاتون صدر، لبنان کی امل کلونی،جو عالمی شہرت یافتہ انسانی حقوق کی وکیل ہیں۔ابتہاج محمد (امریکہ)، اولمپک میڈل جیتنے والی پہلی امریکی مسلم خاتون جو حجاب پہن کر فینسنگ کرتی ہیں۔ملکہ رانیہ العبداللہ (اردن)، تعلیم، صحت اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم عمل کے لئے شہرت رکھتی ہیں۔ یہ خواتین اپنی قابلیت اور عزم کی بدولت مسلم معاشرے اور دنیا بھر کے لیے مشعل راہ ہیں۔بقول زہرا نگاہ!
ایک کے گھر کی خدمت کی، اور ایک کے دل سے محبت کی
دونوں فرض نبھاکر اس نے ساری عمر عبادت کی
ہندوستان کی خلایٔ دوڑ کاایک نامور نام کلپنا چاؤلہ بھی ہیں۔اسپورٹس کے میدان شوٹنگ میں2024 کے پیرس اولمپکس میں دو برونز میڈل جیت کر مانو بھاکر نے ہندوستان کا نام روشن کیا تھا۔’’عالمی یومِ خواتین ‘‘ کا ذکر ادھورا رہ جائے گا اگر ہم اپنی وزیر فینانس نرملا سیتا رمن جی کو بھول جائیں جو ہمارا اور آپ کا سالانہ بجٹ بناتی ہیں۔آج کل چند افراد کے گھر کا بجٹ بنانا مشکل کام ہوگیا ہے، پورے 140 کروڑ عوام کا سالانہ بجٹ بنانا اور ہر ایک ہندوستانی کو خوش رکھنا معمولی بات نہیں ہے۔گزشتہ دور حکومت میں نرملا جی وزیر دفاع تھیں،جب گلوان اور اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں ہندوسانی اور چینی جوان سرحد پر آپس میں بھڑ گئے تھے تو اس کے کچھ دن بعد نرملا جی سرحد پر واقع چینی فوجی چوکی پہنچ گیٔ تھیں۔ گورے گورے،چپٹے چپٹے وہاں بیٹھے چار پانچ چینی جوان مسکراتے ہوئے نرملا جی کے احترام میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ نرملا جی کے ساتھ بھی انکے اپنے چار پانچ جوان تھے۔بڑے پیار سے وہ بات کر رہی تھیں کہ جیسے کہنا چاہ رہی ہوں، ’’اچھے بچے آپس میں نہیں لڑتے‘‘ انکی یہ ادا ، اور اندازِ گفتگو ہمیں بہت بھایٔ تھی ، اور ماں کی ’’ ممتا ‘‘ نظر آیٔ تھی۔
سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی ، راج دلارا لکھا تھا
یکم؍مارچ،2026ء کو اردو کی نامور ادیبہ جیلانی بانو بھی چل بسیںاور حیدر آباد یوں پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ایک جگہ انہوں نے لکھا تھا۔
’’میرے مسلسل لکھتے رہنے کا ایک ہی مقصدہے کہ میری لکھی ہویٔ ایک سطر کسی کو سچ بولنے کی طاقت دے،چور کو مجرم کہنے کا حوصلہ ہو‘‘ ہم بانو باجی کو اس موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔عورت ،ماں، بہن،بہو ، بیٹی اور شریکِ حیات کی صورت میںقدرت کا ایک حسین تحفہ ہے،اور نسلِ نوع انسانی کی ضامن ہے۔عورت ہی زندگی کے گلشن کی بہار ہے ۔ بقول علامہ اقبالؒ!
یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن ، محبوبِ فطرت ہے
مرکزی حکومت کی ایک بڑی اسکیم’’بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ‘‘ بھی ہے۔ہندپاک میںمسلم دینی جماعتوں کی سو سالہ سے زیادہ تاریخ ہے۔دین اور اسلام کی خدمت میں ان جماعتوں نے کویٔ کسر نہیں چھوڑی ہے ۔نوجوان مسلم نسل کو نماز روزے سے جوڑے رکھا ہے۔لیکن اب،مسلم معاشرہ میںخواتین کو لیکر ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ابھرتا نظر آرہا ہے۔ کچھ ناداں ،فجر سے عشاء تک ’’قبر،قبر کی رٹ لگارہے ہیں اور عشاء سے فجر تک۔۔۔؟عورت ہے یا بچے پیدا کرنے کی آٹو میٹک مشین؟مسلم معاشرہ میں خرابی کی ایک مثال3 طلاق بھی ہے۔مسلم معاشرہ میںعلحدگی ، خْلا اور طلاق کی شرحیں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ گھروں سے بھاگ کر شادی کرتی نظر آرہی ہیں۔ بقول پروین شاکر!’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوایٔ کی‘‘۔عالمی یومِ خواتین کے موقع پر ہمارے اکابرین ملت و قوم کے لئے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کیا کھورہے ہیں اور کیا پارہے ہیں؟ ہم سال بھرخواتین کو خراج عقیدت اور خراجِ تحسین پیش کرتے رہیںگے۔ بقول مخدوم!
پھول کھلتے رہیںگے دنیا میں
روز نکلے گی بات پھولوں کی
Address:
Engineer Mahmood Iqbal
Mobile: 6309727951
Jaweed Villa-Ground Floor
H. No. 12-2-419 / A / 3 / 1
Alapati Nagar, Mehdipatnam
Hyderabad, 500028
Telangana, India









