رباط، مراکش، 19 جنوری (یواین آئی ) ایک سنسنی خیز، ڈرامائی اور تنازعات سے بھرپور فائنل کے بعد سینیگل نے مراکش کو اس کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر 0-1 سے ہرا کر دوسری بار افریقن کپ آف نیشنز کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ ایکسٹرا ٹائم میں پاپے گوئے (Pape Gueye) کے شاندار گول نے سینیگل کو تاریخی فتح دلائی۔
میچ اس وقت شدید تنازع کا شکار ہوا جب ریفری نے سینیگل کا ایک یقینی گول فاول کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب انجری ٹائم میں مراکش کو متنازع پنالٹی دی گئی، جس پر سینیگل کے کوچ نے احتجاجاً ٹیم کو میدان سے باہر بلانے کی کوشش کی، تاہم کپتان سادیو مانے کی مداخلت اور اسپورٹس مین شپ نے میچ کو دوبارہ شروع کروایا۔مراکش کے پاس جیت کا سنہری موقع اس وقت ضائع ہوا جب اسٹار کھلاڑی براہیم دیاز نے پنالٹی پر ‘پننکا کک’ (Panenka) لگانے کی کوشش کی، جسے سینیگل کے گول کیپر ایڈورڈ مینڈِی نے بڑی آسانی سے روک لیا۔ اس ایک لمحے نے مراکش کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
مقررہ وقت میں مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہنے کے بعد، ایکسٹرا ٹائم میں سینیگل کے پاپے گوئے نے ڈی باکس کے باہر سے ایک راکٹ شاٹ (Rocket Shot) لگا کر گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ مراکش کے گول کیپر ‘بونو کی تمام تر کوششوں کے باوجود سینیگال نے برتری برقرار رکھی۔
پلیئر آف دی ٹورنامنٹ:سادیو مانے (سینیگل) نے اپنی قیادت اور کارکردگی سے ٹیم کو ٹائٹل جتوایا اور سیموئیل ایٹو جیسے لیجنڈز کی فہرست میں شامل ہو گئے۔انہیں پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا ہے۔
ٹاپ اسکورر (گولڈن بوٹ): براہیم دیاز (مراکش) 5 گولز کے ساتھ۔بہترین گول کیپر: یاسین بونو (مراکش) پورے ٹورنامنٹ میں شاندار دفاع کے باعث۔سینیگل کایہ ان کا دوسرا AFCON ٹائٹل ہے۔ مراکش کا 1976 کے بعد دوسری بار ٹائٹل جیتنے کا خواب ایک بار پھر ادھورا رہ گیا۔سادیو مانے ان چند کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے دو بار یہ ٹرافی جیتی ہے۔