یکم جولائی کا دن ہر سال اقلیت اور خاص کرکے پسماندہ سماج کے لوگ بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ یہ دن مسلم رہنما عبد القیوم انصاریؒ کا یوم پیدائش ہے۔ ان کی سیاسی سرگرمی بہار تک ہی محدود نہیں رہی۔ وہ قومی سیاست میں بھی مسلسل سرگرم رہے۔ ان کے جانے سے پورے ملک اور خاص کرکے پسماندہ سماج کو اور پسماندہ تحریک کو بڑا نقصان ہوا اور ان کے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا وہ اب تک پر نہیں ہو سکا ہے ۔
واضح رہے کہ یہ وہی عبد القیوم انصاریؒہیں جن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، آپ کے کئی شخصی پہلو تھے، جہاں ایک طرف آپ پسماندہ طبقات کے علمبردار تھے وہیں ساتھ ہی ساتھ آپ شاعر، ادیب، مقرر اور فخر قوم بھی تھے جنہوں نے تمام طرح کی تنگ نظری کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا، اور پسماندہ مسلمانوں کی علیحدہ شناخت کے لیے سیاسی اور سماجی تحریکوں کی بنیاد رکھی۔
آپ تقسیم ہند کے سخت خلاف تھے اور اس کے لئے آپ نے جدوجہد بھی کی، یہاں تک کہ جنّاح کی سخت مخالفت کی اور ہر محاذ پر مسلم لیگ اور جناح کی قیادت کو چیلنج کیا اور مخالفت کی، لیکن آج جب بہار میں انتخابات قریب ہیں، سوال یہ ہے کہ عبدالقیوم انصاری کے نظریات کو اور تمام پسماندہ برادریوں کو موجودہ سیاسی منظرنامے میں کہاں کھڑا کیا جا رہا ہے؟اور آج پسماندہ سماج کہاں ہے اور سرکار کی ہر شعبہ میں ان کی کتنی شراکت ہے۔
آزادی کے بعد سے لے کر آج تک پسماندہ مسلمانوں کی قیادت میں جو خلا ہے، وہ 2025 کے انتخابات میں اور نمایاں ہو گیا ہے۔بہار کی سیاست میں مسلمانوں کی سیاسی قیادت مفقود ہی نظر آتی ہے ۔ شیخ، سید، پٹھان، خان سے لے کر انصاری، منصوری، قریشی، شاہ ، فقیر، سلمانی، میواتی، گدی جیسے پسماندہ طبقات سب کے سب اب بھی صرف ووٹ بینک بنے ہوئے ہیں اور ان کی شراکت نا کے برابر ہے۔
ایسے میں جب سیاسی پارٹیاں انتخابی جلسوں میں عبد القیوم انصاری کا نام لیتی ہیں، تو یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ کیا صرف تصویریں لگانا ہی کافی ہے، یا پسماندہ مسلمانوں کو بااختیار بھی بنایا جائے گا؟اور اُن کا جائز حق بھی دیا جائے گا؟
10 اگست 1950 کا دن بھارتیہ مسلمانوں کی تاریخ میں ایک سیاہ دن ہے۔ اسی دن وہ صدارتی آرڈر جاری کیا گیا جس کے تحت صرف ہندو دلتوں کو SC (شیڈیولڈ کاسٹ) کا درجہ دیا گیا۔ بعد میں سکھ اور بودھ مذہب کو بھی شامل کیا گیا، لیکن مسلمان اور عیسائی دلت آج تک محروم ہیں۔نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں پسماندہ مسلمان -چمڑے کے کام کرنے والے، صفائی ملازمین، انصاری، دھوبی، حلوائی، قریشی، موچی—اب بھی ان سہولتوں سے محروم ہیں جو انہی جیسے دلت ہندو بھائیوں کو حاصل ہیں۔
یہ وہ اہم مسئلہ ہے جس پر آج بھی تمام سیاسی پارٹیاں خاموش ہیں۔کوئی بھی سیاسی پارٹی 1950 کے آرڈیننس کو ختم کرانے کی کھلے عام بات نہیں کرتی، کیونکہ یہ موضوع سیاسی خطرے سے خالی نہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس حکم نامے کی وجہ سے تقریباً ۱۳۱ جگہوں پر مسلم ایم پیز نہیں بن سکتے اور کئی سو ایم ایل اے (تقریباً ۱۲۰۰؍سے زائد) نشستیں اس حکم کی وجہ سے مسلم سماج سے چھن گئی ہیں۔
عبد القیوم انصاری نے کہا تھاــ: ’’ ہمیں صرف اپنی قوم کے مالدار طبقے کی نہیں بلکہ ان کے غریب طبقے کی بھی فلاح کی فکر ہونی چاہیے۔‘‘
یہ بھی بھارت کے مسلمانوں کا المیہ ہے کہ بھارت کا وہ کریمی طبقہ (خوشحال طبقہ) جس کو سب سے نچلے طبقہ کے لئے کام کرنا تھا آج تک نہیں کیا اور نہ ہی کر رہا ہے ورنہ بھارت کے مسلمانوں میں ہر طرح کی مساوات (تعلیمی، سماجی، سیاسی اور معاشی) مساوات ہوتی۔
انہوںنے اپنے وقت میںآل انڈیا مومن کانفرنس اور اس جیسے دیگر پلیٹ فارم بنا کرمسلم سماج کے نچلے طبقے کو تعلیم، معیشت، اور سیاسی شعور سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مگر آج اُن کا نام لیکر جگہ جگہ اپنی دکان چمکانے والے پسماندہ رہنما صرف ان کی سالگرہ یا برسی مناتے ہیں، اُن کے سیاسی ایجنڈے پر کوئی کام نہیں کیا جا رہا ہے اور نا ہی ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوئی فکر ہے۔
چونکہ سال رواں بہار میں انتخابات ہو رہے ہیں ایسے میں یہ موقع پسماندہ برادری کے لیے ایک سنہری موقع بن سکتا ہے، جبکہ پسماندہ مسلمان آبادی کے تناسب سے ٹکٹ تقسیم کا مطالبہ کریں ۔ نیز یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ تمام چھوتی بڑی سیاسی پارٹیاں 1950 کے صدارتی آرڈر کے خاتمے کو اپنے منشور میں شامل کریں۔گاندھی جی جان بچانے والے ، دیش رتن بخت میاں عرف بطخ میاں انصاری کو انصاف دیا جائے۔ صدر جمہوریہ کا ان سے کیا گیا وعدہ پورا کرتے ہوئے ۳۵؍ بیگھہ زمین ان کے اہل خانہ کو دی جائے۔پسماندہ سماج پر ہونے والی تمام ناانصافیوں کو ختم کیا جائے۔ نیز پسماندہ برادریاں خود اپنی قیادت، اپنی تنظیم، اور اپنی آواز تیار کریں ورنہ یاد رکھیں کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو آپ کو محض ووٹ بینک ہی گردانتی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ عبدالقیوم انصاری جیسی عظیم شخصیت کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھارت کے اعلیٰ اعزاز ’’بھارت رتن‘‘ سے نوازا جانا چاہئے وہ واقعی میں اس کے حقدار ہیں۔ ان کے نام پر ایک سنٹرل یونیورسٹی بنائی جائے۔سڑک/ ریلوے اسٹیشن وغیرہ کا نام ان کے نام سے موسوم کئے جائیں اور ان کی سوانح حیات کو نصاب کی کتابوں میں شامل کیا جائے۔
آج اگر ہم واقعی عبد القیوم انصاری کو یاد کرنا چاہتے ہیں، تو اُن کے افکار، وژن اور ایجنڈے کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔ پسماندہ مسلمانوں کو اپنے وجود کا ثبوت دینا ہوگا—اور یہ ثبوت صرف ووٹ سے نہیںہوگا بلکہ، قیادت سے ہوگا۔ بہار کی سرزمین نے عبد القیوم انصاری جیسے عظیم رہنما کو جنم دیا۔ اب وقت ہے کہ اُسی سرزمین سے ایک نئی قیادت کھڑی ہو، جو ان کے مشن کو مکمل کرے، اور پسماندہ برادری کو سیاست کے حاشیے سے اُٹھا کر مرکز تک لے جائے یہی عبدالقیوم انصاری اور ان جیسے تمام رہنمائوں کو سچی خراج عقیدت ہوگی۔









