بھوپال ۴ اگست(پریس ریلیز) تہذیب فاؤنڈیشن رجسٹرڈ بھوپال و اسلم چشتی فرینڈ سرکل(اے سی ایف سی) کے باہمی اشتراک سے ایم ڈی ہائر سیکنڈری اسکول ،جہانگیرآباد بھوپال میں ایک شام آزادی کے دیوانوں کے نام کل ہند کامیاب مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔کل ہند مشاعرہ کے پہلے حصے میں مہمانوں کا اعزاز و استقبال کیا گیا اورایم پی بورڈ امتحانات میں میرٹ میں آنے والے طلبا کو ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔مہمانوں کو تہذیب فاؤنڈیشن کی جانب سے مومینٹو ،شال اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔کل ہند مشاعرہ کی صدارت کے فرائض انجام دینے والے چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری کا استقبال ممتاز شاعر و تہذیب فاؤنڈیشن کے سکریٹری ڈاکٹرانجم بارہ بنکوی اور ایم ڈی ہائیر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل مولانا محمد اشرف نے کیا جبکہ پروگرام کے مہمان خصوصی و ریوا کے سابق آئی جی ڈاکٹر مہیند رسنگھ سکروار کا استقبال ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے کیا۔ممتاز سماجی کارکن و کاروان انسانیت کے صدر طارق جیلانی کا استقبال سینئر صحافی خان آشو نے،انٹر نیشنل ہاکی پلیئر و ایم ڈی ہائیر سیکنڈری اسکول کمیٹی کے صدر محمد امین کا اعزاز تہذیب فاؤنڈیشن کے اہم رکن سید آصف علی نے،ممتاز صوفی پیر بادشاہ میاں کا استقبال مشہور معالج ڈاکٹر قمر علی شاہ اوربھوپال کے اہم شاعر شعیب علی خان شاد نے ، نامور صحافی و روزنامہ نیا نظریہ کے مدیر و ناشر ڈاکٹر نظر محمود کا استقبال سینئر صحافی ڈاکٹر پنکج سونی نے اور (اے سی ایف سی) کے صدر وفن عروض کے ماہر اسلم چشتی کا استقبال روزنامہ ندیم کے سینئر صحافی محمد سلمان خان نے مومینٹو اور شال پیش کرکے کیا۔اسی طرح سے کل ہند مشاعرہ میں شرکت کرنے والے شعرا ءکا استقبال بھی مومینٹو،شال اور پھولوں کا ہار پیش کرکے کیا گیا۔ (باقیصفحہ سات پر)
عالمی شہرت یافتہ شاعر منظر بھوپالی کا استقبال ڈاکٹر مہیند سنگھ سکروار،ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی ،ڈاکٹر مہتاب عالم اور اسلم چشتی نے کیا جبکہ کانپور کےممتاز شاعر فاروق جائسی کا استقبال سینئر صحافی عابد ممتاز نے،بھوپال کے سینئر شاعر ڈاکٹر یونس فرحت کا استقبال مبارک شاہین اور نسیم احمد نے،بھوپال کےممتاز شاعر فاروق انجم کا استقبال سرور حبیب نے، دہلی کی مشہور شاعرہ ڈاکٹر انا دہلوی کا استقبال مشہور سماجی کارکن نسیم قریشی نے،کل ہند مشاعرہ کی ناظمہ ڈاکٹر وسیم راشد کا استقبال تعلیمی بیدارکے لئے کام کرنے والے سماجی کارکن نسیم احمد نے، اعظم گڑھ کے مشہور شاعر میکش اعظمی کا استقبال بھوپال کے شاعر سراج محمد خان اور عظیم اثر نے، دہلی کے مشہور شاعر شرف نانپاروی کا استقبال بھوپال کے سماجی کارکن سید افتخار علی عرف لالو نے،وارث وارثی کا استقبال بھوپال کے ممتاز معالج ڈاکٹر شاہد خان نے،فیض خمار کا استقبال صحافی شجاعت نوید نے،ساجد پریمی کا استقبال سینئر صحافی ارشاد احمد،ماہر تعلیم و منفرد لب و لہجہ کے شاعر ڈاکٹر نسیم خان کا استقبال عتیق خان نے، بھوپال کے نوجوان شاعر سہیل عمر کا استقبال سماجی کارکن خالد خان نے، عالم دین و منفرد لب و لہجہ کے شاعر ولی اللہ ولی کا استقبال ایم ڈبلیو انصاری و ڈاکٹر مہیندر سنگھ سکروار نے اور بھوپال کی ادیب تقریب میں بہت زیادہ فعال رہنے والے خوبصورت لہجے کے شاعر شمیم حیات کا استقبال ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے کیا۔اسی طرح سے معاشرے میں تعلیمی وسماجی بیداری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے حاجی محمد زاہد اور شہاب قدوائی کا اعزاز و استقبال ڈاکٹر مہیندر سنگھ سکروار،اسلم چشتی اور ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے دست مبارک سے کیا گیا۔جبکہ ایم بورڈ کے ہائی اسکول اور ہائیر سیکنڈری امتحانات میں بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کرنے والے طلبا و طالبات کو میرٹ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ہائی اسکول کی طالبہ مبینہ انصاری،محمد زید اور زیان علی اور بارہویں جماعت کے طلبا ضیا جہاں،شبنم مقیم اور سامعہ کو تہذیب فاؤنڈیشن کی جانب سے صدر مشاعرہ،مہمان خصوصی،مہمانان ذی وقار کے ہاتھوں سے میرٹ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
اس سے قبل پروگرام کے آغاز میں تہذیب فاؤنڈیشن کے سکریٹری ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی دالی اور کہا کہ جس طرح سے ہم نے وعدہ کیا تھا اس وعدے کی تعبیر آج کا خوبصورت و با وقار مشاعرہ ہے۔تہذیب فاؤنڈیشن کی کوشش ہے کہ بھوپال میں ادب کی تہذیب کو پامال ہونے سے بچایا جائے اور یہاں کے ادبی وقار کو اس بلندی پر پہنچایا جائے جسے دیکھ کر لوگ رشک کریں۔
پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ابتدائی حصے کی نظامت کے فرائض ممتاز محقق ،سینئر صحافی اور تہذیب فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر مہتاب عالم نے انجام دئے۔ ڈاکٹر مہتاب عالم نے جہاں مہمانان کا مختصر اور جامع تعارف پیش کیا وہیں انہوں نے بھوپال میں اردو کے ارتقا و فروغ پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔بعد از آں مہمان خصوصی ڈاکٹر مہیندر سنگھ سکروار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک شام آزادی کے دیوانوں کے نام سے منعقدہ کل ہند مشاعرے کو وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا۔ تاہم صدر مشاعرہ ایم ڈبلیو انصاری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جہاں تحریک آزادی میں اردو زبان کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی وہیں انہوں نے اردو کے ساتھ کئے جاریے متعصبانہ سلوک پر سخت تنقید کرتے ہوئے ساجھا وراثت کی امین اردو زبان کے لیے کل زمینی سطح پر کام کرنے پر زور دیا ۔ کل ہند مشاعرہ کے دوسرے حصے کی نظامت کے فرائض دہلی کی مشہور ناظمہ ڈاکٹر وسیم راشد نے بحسن و خوبی انجام دی ۔کل ہند مشاعرہ رات دس بجے شروع ہوا اور دیر رات دو بجے اختتام پزیر ہوا۔مشاعرہ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رات دو بجے بھی سامعین جانے کے لئے تیار نہیں تھے مگر وقت کی نزاکت کے سبب انہیں اپنے گھروں کو جانا پڑا۔مشاعرہ کے سامعین یہ کہتے ہوئے گھر وں کو روانہ ہوئے کہ سرکاری تعاون سے بھی اتنا شاندار مشاعرہ منعقد نہیں ہوتا ہے جو بھوپال کی فعال سماجی تنظیم تہذیب نے کر دکھایا ہے۔ دیر رات تک چلنے والے کل مشاعرہ کا آغاز ولی اللہ ولی کی نعت پاک کے کلام سے ہوا۔کل ہند مشاعرہ میں شعرا کے ذریعہ پیش کئے گئے منتخب اشعار یہاں پیش خدمت ہیں۔
ہزاروں لوگ خالی پیٹ ہیں اس شہر میں پھر بھی
یہاں کھادی پہن کر لوگ جاگیریں بناتے ہیں
منظر بھوپالی
کیا بتاؤں کی مرا عشق کہاں تک پہنچا
میں ملا اس سےتو رنگوں کے جہاں تک پہنچا
ڈاکٹر مہیندر سنگھ سکروار
خواہش دیدار یار کی بات
پہلے دل آئینہ کرے کوئی
فاروق جائسی
کرن دینا سمن دیناچمن دینا نہ دھن دینا
وطن والو مجھے تو صرف اتنا سا وچن دینا
انا دل میں میرے کوئی تمنا ہے تو اتنی ہے
اگر مرجاؤں تو مجھ کو ترنگے کا کفن دینا
ڈاکٹر انا دہلوی
جو خرچ کرتے ہیں سانسیں بھی گن کےان کا بھی
حساب گھر کی ضرورت بگاڑ دیتی ہے
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی
اڑتے لمحات شکنجے میں نہیں آئیں گے
یہ پرندے کسی پنجرے میں نہیں آئیں گے
تم نے پہلے بھی کئی بار کہا تھا ہم سے
ہم کسی اور کے کہنے میں نہیں آئیں گے
ڈاکٹر مہتاب عالم
تہذیبو ں کے لاکھوں پھل آجائیں گے
اردو کا ایک پیڑ لگا دو بستی میں
اسلم چشتی
فن عروض کی راہیں دکھا کے آئی ہوں
تمام عمر میں اردو پڑھا کے آئی ہوں
ڈاکٹر وسیم راشد
نگار صبح کا یوں اہتمام پیدا کر
ردائے شام سے مہر تمام پیدا کر
ڈاکٹر یونس فرحت
بہاؤ پانی کا خود راستہ بنا دے گا
مرا جہاز کھلا بادبان چاہتا ہے
فاروق انجم
دیش میرا نہیں ہمارا ہے
ایسی میری وچاردھار ا ہے
ساجد پریمی
جب بچھڑے تیری خاک سے تب ہم نے یہ جانا
اے جان وطن تم سا کوئی اور نہیں ہے
ڈاکٹر نسیم اے خان
کبھی کبھی تری آنکھوں سے خود کو دیکھا ہے
کبھی کبھی تری تصویر آئنہ کی ہے
شرف نانپاروی
ایک دریا کو تکبر ہے روانی پر بہت
اور سمندر خاموشی سے کتنے دریا پی گیا
سہیل عمر
جب لوگ اتحاد کے سائے میں ڈھل گئے
پھر یوں ہوا چراغ ہواؤں میں جل گئے
وارث وارثی
کچھ دن شریف لوگوں کے ہم ساتھ کیا رہے
پھر یوں ہوا کہ ہم نے شرافت بھی چھوڑ دی ہے
میکش اعظمی
تبھی تو فیض نسب پہ مجھے غرور بھی ہے
خمار بھی ہے رگوں میں میرے سرور بھی ہے
فیض خمار
شیطان تو مل جاتے ہیں ہر موڑ پہ لیکن
افسوس یہ ہےکہ شہر میں انساں کی کمی ہے
شمیم حیات
ہم تو گفت و شنید کہتے ہیں
آپ باتوں کو گفتگو کہئے
ولی اللہ ولی
پروگرام کے آخر میں تہذیب فاونڈیشن کے نائب صدر فرحان خان نے اظہار تشکر ادا کیا اور پروگرام کو آئیندہ تک۔ملتوی کئے جانے کا اعلان کیا۔









