لکھنو 14جنوری: بی جے پی حکمراں مدھیہ پردیش اور راجستھان وغیرہ میں اسپتالوں کی خراب حالت سرخیاں میں ہیں۔ اب اتر پردیش میں موجود گونڈا میڈیکل کالج کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس نے طبی شعبہ میں یوگی حکومت کی کارکردگی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ کانگریس نے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ ’’یہاں انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی موج جاری ہے۔‘‘ کانگریس نے یہ ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں کئی چوہے اِدھر اُدھر پھدکتے ہوئے، مریض کے بیڈ اور آکسیجن پائپ لائن پر جھولتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے ’’یوپی کے گونڈا میڈیکل کالج کا نظارہ دیکھیے۔ یہاں انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی موج جاری ہے۔ موٹے-پتلے، گول-مٹول… طرح طرح کے چوہے یہاں وہاں پھُدک رہے ہیں۔‘‘ اس سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لگتا ہے جیسے میڈیکل کالج کا یہ وارڈ انسانوں کا نہیں، چوہوں کا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ ویڈیو گونڈا میڈیکل کالج سے منسلک بابو ایشور شرنا اسپتال کا ہے، جہاں مریضوں میں انفیکشن کے ساتھ ساتھ آگ لگنے کا امکان بھی بہت زیادہ ہے۔
اس اسپتال اور انسانوں کے وارڈ میں چوہوں کی مٹر گشتی سے متعلق خبر کچھ میڈیا اداروں نے شائع بھی کی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق 2024 میں قائم ’گونڈا میڈیکل کالج‘ اٹل بہاری واجپئی میڈیکل یونیورسٹی، لکھنؤ سے ملحق ہے۔ یہاں پر نیشنل میڈیکل کمیشن سے منظور شدہ ایس بی بی ایس کا کورس کرایا جاتا ہے۔ یہیں کے آرتھوپیڈکس وارڈ میں چوہوں کا قہر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آرتھو وارڈ میں داخل مریضوں نے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز ڈالے ہیں، جن میں تین چار چوہے آکسیجن پائپ لائن کے پاس اور اوپر نیچے کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وارڈ میں چوہے بلاخوف و خطر ٹہلتے رہتے ہیں، جس سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وارڈ میں سیلن اور کھلے بجلی کے سوئچ بورڈ سے انفیکشن اور شارٹ سرکٹ کا خطرہ بھی بنا ہوا ہے









