نئی دہلی30جولائی: سپریم کورٹ نے بدھ (30 جولائی) کو تمل ناڈو کے سابق وزیر وی سینتھل بالاجی سے متعلق ’کَیش فار جاب اسکیم‘ معاملہ میں سماعت کرتے ہوئے تمل ناڈو حکومت کو پھٹکار لگائی۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ نے سابق وزیر سے متعلق معاملہ میں ریاست سے تمام 2000 ملزمان اور 500 گواہوں کی فہرست طلب کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ 2000 سے زائد ملزمان اور 500 گواہوں کی بڑی تعداد کے لیے عدالت کا ایک چھوٹا سا کورٹ روم کافی نہیں ہوگا، بلکہ ملزمان کی حاضری درج کرانے کے لیے ایک کرکٹ اسٹیڈیم کی بھی ضرورت پڑے گی۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ نے کہا کہ ’’اگر عدالتی مداخلت نہیں ہوتی تو ریاستی حکومت معاملات کو باوقار طریقے سے ختم کرنا چاہتی تھی۔‘‘ سپریم کورٹ نے سینتھل بالاجی کے وکیل گوپال شنکر نارائنن سے یہ بھی کہا کہ ’’2000 سے زائد ملزمان اور 500 گواہوں کے ساتھ یہ ملک کی سب سے زیادہ آبادی والا مقدمہ ہوگا۔‘‘ اس سے قبل منگل کو بھی سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت کو پھٹکار لگائی تھی۔ سپریم کورٹ نے منگل کو کہا تھا کہ تمل ناڈو حکومت 2000 ملزمان کو شامل کر کے ٹرائل میں تاخیر کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس سوریہ کانت نے ملزمان کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم جاننا چاہیں گے کہ وزیر کے علاوہ، مبینہ دلال یا بچولیے کون تھے؟ وزیر کی سفارشوں پر کارروائی کرنے والے افسران کون تھے؟ سلیکشن کمیٹی کے اراکین کون تھے؟ تقرری دینے والے افسران کون تھے؟‘‘ عدالت نے مزید کہا تھا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ریاستی حکومت کی کوشش یہ یقینی بنانے پر مرکوز ہے کہ بالاجی کی زندگی میں مقدمے کی کارروائی مکمل نہ ہو۔ ساتھ ہی بنچ نے کہا تھا کہ سابق وزیر یا ان کے حامیوں کی جانب سے نوکری کے لیے پیسے دینے کو مجبور کیے گئے غریب لوگوں کو رشوت دینے والوں کے طور پر پھنسایا جا رہا ہے اور گھوٹالے سے متعلق معاملوں میں ملزم بنایا جا رہا ہے۔









