انسان کے پاس جو سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، وہ اس کی زبان ہے، یہی زبان اظہارِ خیال کا ذریعہ ہے، یہی رشتۂ دلوں کی بنیاد ہے، یہی محبتوں کی ترجمان ہے، مگر افسوس کہ یہی زبان، جب بےقابو ہو جائے، تو رشتوں کے بندھن توڑ دیتی ہے، دلوں میں زخم چھوڑ دیتی ہے، اور انسان کی عزت خاک میں ملا دیتی ہے، الفاظ کے سمندر میں وہ شخص ہی محفوظ رہتا ہے جو اپنے لبوں کے ساحل کو قابو میں رکھتا ہے، زبان ایک ایسی تلوار ہے جو دوسروں کو بھی کاٹتی ہے اور کبھی کبھی اپنے ہی وجود کو زخمی کر دیتی ہے،زندگی میں کتنی ہی پریشانیاں، کتنے ہی اختلاف، کتنی ہی دشمنیاں محض اس زبان کی بےاحتیاطی سے جنم لیتی ہیں، انسان جب بولتا ہے تو گویا اپنے باطن کا دروازہ کھول دیتا ہے، جس کے اندر حکمت ہو، وہ کم بول کر دلوں کو مسخر کرتا ہے، اور جس کے اندر جہالت ہو، وہ زیادہ بول کر خود اپنی وقعت گھٹا دیتا ہے،خاموشی دراصل ایک ایسی عبادت ہے جس کے لیے وضو شرط نہیں، یہ وہ چراغ ہے جو اندر کی روشنی بڑھاتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الآخر فلیقل خیرًا أو لیصمت” یعنی جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ یا تو خیر کی بات کہے یا خاموش رہے، یہ وہ سنہری اصول ہے جس پر اگر انسان عمل کر لے تو دنیا اور آخرت دونوں میں سکون نصیب ہو،زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ کبھی ایک دل کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیتا ہے، اور کبھی ایک جملہ انسان کو ایسے گناہوں میں مبتلا کر دیتا ہے جن کا وہ خود اندازہ نہیں کر پاتا، حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے: “جس نے زیادہ بولا، اس نے زیادہ غلطیاں کیں۔” یہ جملہ دراصل زندگی کی تلخ حقیقت کا نچوڑ ہے، بہت سے لوگ اپنی عقلمندی دکھانے کے لیے بولتے ہیں مگر ان کے الفاظ ان کی کم عقلی کا پتہ دے جاتے ہیں،کبھی کبھی سکوت، ہزار تقریروں سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے، خاموشی انسان کو سننے کا موقع دیتی ہے، غور و فکر کی گنجائش پیدا کرتی ہے، اور اندر کے شور کو ترتیب دیتی ہے، جو شخص ہر لمحہ بولنے کا عادی ہو جاتا ہے، وہ اندر سے خالی ہو جاتا ہے، زبان کے شور میں روح کا سکون دب جاتا ہے، اور انسان الفاظ کے طوفان میں ڈوبنے لگتا ہے،ہماری بیشتر مصیبتیں دراصل خود ہماری زبان سے شروع ہوتی ہیں، کوئی تعلق ختم ہوتا ہے تو اس کی جڑ میں کوئی تلخ جملہ ہوتا ہے، کوئی دشمنی بڑھتی ہے تو ابتداء کسی بےاحتیاط لفظ سے ہوتی ہے، اگر انسان ہر موقع پر خود سے یہ سوال کر لے کہ “کیا یہ بات کہنا ضروری ہے؟” تو شاید اس کے آدھے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں،کبھی کبھی خاموش رہ جانا کمزوری نہیں، بلکہ بلند اخلاق کی علامت ہے، مومن کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ ہر بات کا جواب دے، بلکہ وہ وہی کہتا ہے جس میں خیر ہو، نبی ﷺ نے فرمایا: “زبان انسان کو جہنم میں اوندھے منہ گرا دیتی ہے” اس لیے بولنے سے پہلے تولنا ایمان کی علامت ہے،ادب کا حسن بھی خاموشی میں ہے، بڑا قلمکار وہ نہیں جو بہت کچھ لکھ دے، بلکہ وہ ہے جو تھوڑے میں کمال ادا کرے، اسی طرح بڑا انسان وہ نہیں جو زیادہ بولے، بلکہ وہ ہے جو اپنے الفاظ کا نگہبان ہو، زبان کے طوفان میں راحت تب ہی باقی رہتی ہے جب انسان کے دل میں خوفِ خدا بیدار ہو.،زندگی کا حسن اعتدال میں ہے، اور بولنے کا حسن بھی ضرورت میں، اگر ہم نے اپنی زبان کو قابو میں رکھ لیا تو نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی راحت پہنچا سکتے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ خاموشی میں جو سکون ہے، وہ الفاظ کے طوفان میں کبھی نہیں ملتا.









