کراچی :09؍اکتوبر:(پریس ریلیز) نورالحسن بھوپالی شہید جیسا محب وطن اورمخلص بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے،اس خانوادے نے پاکستان کی بقاء اور ترقی میں جوکام انجام دیئے وہ قابل تحسین اور قابل تعریف ہیں۔ان کے بعد ان کے والد وہاج الدین چشتی مرحوم اورپھر ان کے بھائی معین الدین چشتی مرحوم نے استحکام پاکستان کونسل کو اپنی معراج پر پہنچا دیا۔تقریب دعوت حلیم سے محترمہ شمیم ممتازسابق وزیر سوشل ویلفیئر،علامہ ابراررحمانی،محترمہ قمرالنساء قمر،ڈاکٹرسلیم حیدر،فرید الدین چشتی اور اعجاز علی نوید اوردیگرکاخطاب۔
ظہورالحسن بھوپالی شہید کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں،22سال کی عمر سے یہ شہید پاکستان کی بقاء اور ترقی میں اپنا کردارانجام دے رہاتھا۔قائدحزب اختلاف سندھ اسمبلی کی حیثیت سے ان کی تقاریر ،ان کے محب وطن ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔آج کی یہ دعوت حلیم دراصل مل جھل کر بیٹھنے کا ایک بہانہ ہے جس میں ہم خاص طور پر ظہورالحسن بھوپالی اور پاکستان کے دیگر اکابرین کویادرکھ سکیں۔اپنی صدارتی تقریرمیں محترمہ شمیم ممتاز نے کہا کہ قمرالنساء قمر کی شخصیت مشعل راہ ہے،ان کا کام بولتاہے،ان کی سماجی اور مذہبی خدمات اس وقت بھی اور آنے والے وقتوںمیں یاد رکھی جائیں گی۔اس موقع پر مشہور عالم دین علامہ ابرار رحمانی نے کہا کہ ہمارا اوراس خانوادےکاتعلق بہت پرانا ہے ، اس خانوادے نے اس میں چاہے ظہورالحسن بھوپالی ہوںیا مولاناوہاج الدین چشتی یا معین الدین چشتی اور خود محترمہ قمرالنساء قمر کی شخصیت ایسی ہے کہ جن پر ہمیں فخرکرناچاہیے۔اس موقع پر تقریب کے میزبان فرید الدین چشتی ،اعجازعلی نویداورسہیل عابدی نے مختصر خطاب کیا۔تقریب کے نظامت کے فرائض معروف دینی شخصیت قاضی نوراسلام نے انجام دیئے،اس موقع پر عمائدین شہرخواتین وحضرات کی بہت بڑی تعدادموجود تھی،جس میں ارشاد دہلوی ،اقبال چوہدری ایڈووکیٹ، عباس علی عباسی ایڈووکیٹ،شاہ منیر قادری،اقبال موسانی،میجرعباس،محمدعلی ظفر،محمدمزمل،حکیم عسکری،محترمہ شگفتہ فرحت، محترمہ شائستہ فرحت ،سیدعباس علی اورمحمدعلی گوہر کے علاوہ دیگرلوگ موجودتھے۔