اجین:24؍ستمبر:مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، اجین کے ذریعے ’’سلسلہ اور تلاش جوہر‘‘کے تحت اجین کے معروف شاعر احمد کمال پروازی کومنسوب ادبی و شعری نشست کا انعقاد 24 ستمبر ، 2025 کو پریس کلب، اجین میں ضلع کوآرڈینیٹر شبنم علی کے تعاون سے کیا گیا۔
اجین میں منعقدہ “سلسلہ اور تلاشِ جوہر” کے لیے مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے زیر اہتمام اجین میں منعقدہ سلسلہ اور تلاشِ جوہر، مشہور شاعر احمد کمال پروازی کو منسوب ہے۔ احمد کمال پروازی نعرے بازی اور بیانیہ شاعری سے دور، خالص اردو شاعری کے علمبردار تھے، اس لیے اکیڈمی نے اس موقع پر انہیں یاد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر منعقدہ “تلاشِ جوہر” کا مقصد ضلع کے نئے تخلیق کاروں کی صلاحیتوں کو سامنے لانا ہے، جبکہ سلسلہ سینئر اور دیگر تخلیق کاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرکے مکالمے اور تخلیقی تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔ اکیڈمی کی کوشش ہے کہ اس طرح کے پروگراموں کے ذریعے نہ صرف اردو ادب کی روایت زندہ رہے، بلکہ نئی نسل اور سینئر تخلیق کاروں کے درمیان ادبی رابطے لا پُل بھی مضبوط ہو۔
اجین ضلع کی کوآرڈینیٹر شبنم علی نے بتایا کہ ادبی و شعری نشست دو اجلاس پر مبنی تھی ۔ پہلے اجلاس میں دوپہر 12:00بجے تلاش جوہر منعقد ہوا جس میں ضلع کے نئےتخلیق کاروں نے فی البدیہہ مقابلے میں حصہ لیا۔ حکم صاحبان کے طور پر رتلام کے سینئر شاعر صدیق رتلامی اور اجین کے استاد شاعر حمید گوہر موجود تھے جنہوں نے نئے تخلیق کاروں کو شعر کہنے کے لیے دو طرحی مصرعے دیے۔ دیے گئے مصرعوں پر نئےتخلیق کاوں کے ذریعے کہی گئی غزلوں اور ان کی پیشکش کی بنیاد پر امجد آفتاب نے پہلا، مظفر علی نے دوسرا، اور محمود علی نے تیسرا مقام حاصل کیا۔پہلا، دوسرا، اور تیسرا مقام حاصل کرنے والے تینوں فاتحین کو اردو اکیڈمی کی طرف سے بالترتیب 3000/-، 2000/-، اور 1000/- روپے کی انعامی رقم اور سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔
دوسرے اجلاس میں دوپہر 2:00 بجے سلسلہ کے تحت ادبی و شعری نشست کا انعقاد ہوا جس کی صدارت اجین کے مشہور سماجی کارکن شکیل پٹواری نے کی۔ اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر ابھینو رنگ منڈل کے صدر شرد شرما اور مہمان ذی وقار کے طور پر صدیقی رتلامی اور خصوصی مقرر کے طور پر حمید گوہر اسٹیج پر جلوہ افروز رہے ۔ اس اجلاس کی شروعات میں اجین کے معروف شاعر احمد کمال پروازی کی حیات و خدمات پر حمید گوہر نے روشنی ڈال کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
حمید گوہر نے کہا کہ احمد کمال پروازی اجین میں ماضی قریب کے نئے افق کی ادبی کہکشاں جو ڈاکٹر عتیق اللہ رشید امکان شکیب نیازی ، واجد قریشی ، ضیاء رانا اور ناچیز حمید گوھر پر مشتمل تھی، ان ادبی ستاروں کے جھرمت کا ایک تابناک ستارا تھا ۔جس کے اچانک ٹوٹ جانے سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے ۔احمد کمال پروازی کا کلام ان کے دور کے تمام معروف رسائل و جرائد میں انتہائی احترام و عزت کے ساتھ شائع کیا جاتاتھا ۔شب خون الہ آباد، آجکل، دہلی اور اسی قبیل کے کئ معیاری جرائد میں ان کا کلام کثرت کے ساتھ شائع ہوا ہے۔
ان کا شعری اثاثہ تین مجموعہ ہائے کلام پر مشتمل ہے ۔پہلا مجموعہ مختلف ۔دلی سے اور دوسرا برقرار اجین سے نیز ایک مجموعہ دیوناگری میں چاندی کا ورق شائع ہوا ۔
چاندی کا ورق کے پروف ریڈنگ کے دوران ہی ان کی رحلت کا سانحہ وقوع پزیر ہوا، جسے ان کے انتقال کے بعدحمید گوہر اور ڈاکٹر ضیارانا نے ترتیب دے کر شائع کیا۔انکے کلام کی مقبولیت ان کی حیات ہی سے شروع ہوگئ تھی ۔کئی گلوکاروں نے ان کے کلام کو اپنے نغموں میں پرویا ہے۔
یادکیجئے الطاف راجہ کا وہ نغمہ :
اس شہرِ نامراد کی عزت کرے گا کون
ہم بھی چلے گئے تو محبت کرے گا کون
اس گھر کی دیکھ ریکھ کو ویرانیاں توہوں
جالے ہٹا دیے تو حفاظت کرے گا کون
احمد کلام پروازی کےکلام پر ملک اور بیرون ملک کے کئ ناقدین و مبصرین نے تبصرہ کرتے ہوئے ان کی ادبی قدآوری کو تسلیم کیا ہے۔اہالیان اجین اردو اکادمی کی اس کاوش کو سلام کرتے ہوئے شکر گزار ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
شعری نشست میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں :
خوشبوؤں سے میرا تعلق ہے
میں ہوں پھولوں کی خوش بیانی میں
تربیت کے میں رنگ بھرتا ہوں
اپنے بچوں کی زندگانی میں
صدیق رتلامی
ہم نے سیکھا ہے بزرگوں سے محبت کا چلن
ہم تو دشمن کو بھی سینے سے لگا لیتے ہیں
نریندر سنگھ اکیلا
عطر لفظوں پہ مل کے آیا ہوں
آج لہجہ بدل کے آیا ہوں
مجھے پامال کیا کرے گا کوئی،
خود ہی خود کو کچل کے آیا ہوں
ڈاکٹر رفیق ناگوری،
محنت کشوں کا جب بھی ٹپکتا ہے پسینہ
پھولوں کی خوشبوؤں کو کھٹکتا ہے پسینہ
اس کو سلام کرتی ہیں پریاں سکون کی،
مزدور جب بھی گھر میں جھٹکتا ہے پسینہ
حسین احمد شان،
ہزار لوگ ترستے ہیں زندگی کے لیے
حیات وار دی میں نے تری خوشی کے لیے
نجمہ صبا دیواسی
تتلیاں کرتی ہیں آکر مرے کمرے کا طواف
میز پر جب تری تصویر رکھی ہوتی ہے
مرزا جاوید بیگ،
آسمانوں کی سیر کرنے کو
پاؤں اپنا نکال دنیا سے
آ گیا ہاتھ میں تیرا دامن
بچ گئے بال بال دنیا سے
شبنم علی
یہ محفوظ ساحل تمہیں دے رہا ہوں
سفر رکھ کے منزل تمہیں دے رہا ہوں
امت مارو
میں عیب ہر کسی کے کبھی کھولتا نہیں،
رشتوں کے بیچ زہر کبھی گھولتا نہیں
ملنگ خان
پروگرام کے ابتدائی اجلاس کی نظامت کے فرائض سمیر الحق نے جبکہ ادبی و شعری نشست کی نظامت کے فرائض شبنم علی بحسن خوبی انجام دیے۔پروگرام کے آخر میں ضلع کوآرڈینیٹر شبنم علی نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔









