بنگلورو 7نومبر: سپریم کورٹ کی روش پر چلتے ہوئے اب کرناٹک ہائی کورٹ نے بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اختیارات کی حد مقرر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایجنسی ’سپر کاپ‘ کی طرح کام نہیں کر سکتی۔ عدالت نے کانگریس کے ایک رکن اسمبلی اور دیگر افراد کے خلاف درج ای سی آئی آر اور اس کی بنیاد پر کی جانے والی تمام کارروائیوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ جسٹس ایم آئی ارون کی یک رکنی بنچ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اختیارات کی حدود طے کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ ایجنسی اپنے علم میں آنے والے ہر معاملے کی جانچ کرنے کے لیے کوئی ’سپر کاپ‘ نہیں ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی منی لانڈرنگ کی جانچ کو بنیاد فراہم کرنے والے قانونی نظام کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اختیارات بنیادی نوعیت کے نہیں بلکہ اخذ کردہ یعنی کسی دوسرے قانونی اختیار سے حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے میں جب وہ بنیادی یا درج شدہ جرم (پریڈیکیٹ آفینس) ہی باقی نہیں رہتا، جس کی بنیاد پر کارروائی شروع کی گئی تھی، تو پی ایم ایل اے کے تحت کارروائی جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔
ای ڈی پر مذکورہ بالا تبصرہ کرتے ہوئے عدالت نے کرناٹک اسمبلی کے رکن اور کانگریس لیڈر کے وائی ننجے گوڑا اور ان سے وابستہ دیگر درخواست گزاروں کے خلاف ای ڈی کی جانب سے درج ای سی آئی آر اور اس سے متعلق تمام کارروائیوں کو منسوخ کر دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے ای ڈی کی جانب سے درج کرائی گئی ایک نجی شکایت کی بنیاد پر شروع کی گئی کارروائی بھی ختم کر دی۔ ہائی کورٹ نے جائیداد ضبط کرنے کی توثیق کرنے والے پی ایم ایل اے کے فیصلہ ساز ادارے (ایڈجوڈیکیٹنگ اتھارٹی) کے حکم کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ایک درخواست گزار سے ضبط کی گئی اشیا واپس کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔









