واشنگٹن 7نومبر: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے محدود فوجی حملہ کیا۔ ٹرمپ نے اس کارروائی کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے حال ہی میں ایک چھوٹا طیارہ شکن نظام تیار کیا ہے، جسے امریکی فوج نے صرف 5 سے 15 منٹ میں تباہ کر دیا۔ دریں اثنا، امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کو 2 کروڑ ڈالر تک کے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم کے شجاع علاقے میں جمعہ کو دو دھماکے سنے گئے۔ یہ جزیرہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ڈرون MQ-1 کو مار گرایا ہے۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، “انہوں نے ایک چھوٹا طیارہ شکن نظام بنایا تھا، اور ہم نے اسے تقریباً 15 منٹ میں تباہ کر دیا، شاید پانچ۔” اس سے قبل پیر کو قشم اور ہنگام جزائر کے علاوہ سرزمین پر بندر عباس کے ارد گرد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ امریکی فوج نے اس وقت اپنی کارروائی کو “دفاعی حملہ” قرار دیا۔ جمعہ کی کارروائی اس لیے اہم ہے کیونکہ منگل کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ انتخابات کے بعد ایران کے خلاف یہ پہلی نئی فوجی کارروائی بتائی جا رہی ہے.