جے پور5نومبر: راجستھان میں پنچایتی راج انتخابات کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کو 27 اضلاع کی 3716 گرام پنچایتوں میں سرپنچ اور وارڈ پنچ کے عہدوں کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی۔ مجموعی پولنگ 70 فیصد سے زیادہ رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سہ پہر تین بجے تک 63.61 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی تھی۔ شام چھ بجے پولنگ ختم ہونے کے بعد گرام پنچایت ہیڈکوارٹروں پر ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔ انتخابی نتائج دیر رات تک آنے کی توقع ہے۔ اس مرحلے میں سرپنچ کے 3716 اور وارڈ پنچ کے 34218 عہدوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ریاست بھر میں 11869 پولنگ مراکز قائم کیے گئے تھے، جہاں ایک کروڑ چھ لاکھ سے زیادہ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔ دھولپور ضلع میں 126 گرام پنچایتوں کے 426 مراکز پر 70 فیصد سے زیادہ ووٹنگ درج کی گئی۔
ووٹنگ کے دوران کئی مقامات پر ہنگامہ آرائی، مارپیٹ اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ جھنجھنو ضلع کے نوال گڑھ علاقے کے دیلسر گاؤں میں بدھ کی رات سرپنچ امیدواروں کے حامیوں کے درمیان لاٹھیوں سے تصادم ہوا۔ پولیس کے مطابق، اس واقعے میں پنجاب کے ہوشیارپور سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی موت ہوئی، جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ مہلوک کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور پولیس ملزمان کی تلاش کررہی ہے۔









