نئی دہلی 21اکتوبر: کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن راجیہ سبھا اجے ماکن نے مرکزی حکومت کی اڑان (یو ڈی اے این) اسکیم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی 2026 تک چھوٹے شہروں کو فضائی رابطے فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے 679 روٹس میں سے 331 پر پروازیں بند ہو چکی تھیں۔ ان کے مطابق، یہ مجموعی روٹس کا تقریباً 48.7 فیصد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 165 روٹس پر سبسڈی کی تین سالہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی پروازیں بند ہو گئیں۔ اجے ماکن نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 20 اکتوبر 2026 کو اڑان اسکیم کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی جانب سے جاری پس منظر نوٹ میں شروع کیے گئے روٹس کی تعداد تو بتائی گئی، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں سے کتنے روٹس پر اس وقت پروازیں چل رہی ہیں۔
ماکن کے مطابق، شہری ہوابازی کی وزارت نے جولائی 2026 میں راجیہ سبھا میں تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اڑان اسکیم کے آغاز سے 10 جولائی 2026 تک مجموعی طور پر 679 روٹس شروع کیے گئے تھے، لیکن جواب دیے جانے کے وقت صرف 348 روٹس پر پروازیں جاری تھیں۔ اس طرح 331 روٹس پر فضائی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اڑان اسکیم کا آغاز 21 اکتوبر 2016 کو اس وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ چھوٹے شہروں میں بھی عام شہریوں کے لیے سستی اور قابل عمل فضائی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اسکیم کے نام یو ڈی اے این کا پورا مطلب ’اڑے دیش کا عام ناگرک‘ ہے، یعنی ملک کا عام شہری بھی ہوائی سفر کر سکے۔ اجے ماکن نے کہا کہ ان روٹس پر پروازیں جاری رکھنے کے لیے حکومت ایئرلائنز کو وائبیلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) کے نام سے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے باوجود شہری ہوابازی کی وزارت نے جولائی 2026 میں راجیہ سبھا کو بتایا تھا کہ 165 روٹس پر سبسڈی کی تین سالہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی خدمات بند کر دی گئی تھیں۔