بھوپال:21؍اکتوبر(پریس ریلیز) گزشتہ دنوںسر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر سر سید ڈے پروگرام کا انعقاد بھوپال کے کوہِ فضا میں واقع دارالسلام کوٹھی (رہائش گاہ جناب نواب رضا صاحب) پر کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام اللہ سے شروع ہوا۔ تلاوت کلام اللہ کے بعد سینئر علیگ سید ایوب علی ندویؔ نے کلیدی خطبہ پڑھا۔انہوںنے کہا کہ تعرف الشجرۃ بثمرھا یعنی درخت اپنے پھل سے جانا جاتا ہے۔ہم سب علیگ برادری اس درخت کے پھل کے مانند ہیں جس کی بنیاد سر سید احمد نے رکھی تھی۔ سر سید احمد خان کی عبقری شخصیت کا اس مختصر وقت میں ذکر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نہ ممکن ہے۔ پروگرام میں مقررین نے سر سید کے تعلیمی مشن اور اصلاحی فکر کو آگے بڑھانے، تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے اور نئی نسل کو جدید علوم، تحقیق اور روزگار سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر حکومت، علیگ برادری، دانشوروں اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ سر سید کے تعلیمی خواب کو عملی شکل دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
مقررین نے تجویز پیش کی کہ نئی نسل تک سر سید کا پیغام پہنچانے کے لیے محض سال میں ایک مرتبہ تقریب منعقد کرنا اور جشن منانا کافی نہیں، بلکہ پورے سال کا ایک منظم تعلیمی و سماجی کیلنڈر تیار کرکے زمینی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور تعلیمی اداروں میں سر سید کی فکر پر پروگرام، طلبہ کے لیے رہنمائی، علمی مذاکرے اور سائنسی شعور بیدار کرنے کی سرگرمیاں منعقد کی جائیں۔ ڈیجیٹل دور میں سائنس کے نظریات کو عام کرنے اور Word of God اور Work of God کے باہمی تعلق کو سائنسی نقطۂ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوششوں کو بھی فروغ دیا جائے، تاکہ نئی نسل میں علم، تحقیق اور غور و فکر کا رجحان پیدا ہو۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سینئر علیگ اور اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے رکن اساسی ایم۔ ڈبلیو۔ انصاری، آئی پی ایس (ریٹائرڈ. ڈی جی) نے سر سید ڈے کے موقع پر علیگ برادری کی اجتماعی ذمہ داریوں پر یہ تجویز بھی پیش کی کہ گزشتہ سال سر سید ڈے پروگرام میں مدعو مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر صنور پٹیل نے اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (AMUBA) کو زمین فراہم کرنے کے معاملے میں مثبت رخ اختیار کیا تھا۔ ضرورت ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعلقہ حکام سے رابطہ اور ضروری کارروائی کو آگے بڑھایا جائے، تاکہ بھوپال میں ایسوسی ایشن کے تعلیمی و سماجی منصوبوں کے لیے زمین کے حصول کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں۔پارلیمنٹ میں اے ایم یو کے ۵؍ مراکز ملک بھر میں قائم کرنے بل پاس ہوا تھا۔ ملاپورم (کیرالہ)، مرشد آباد (بنگال)، دربھنگہ (بہار) اور دیگر جگہوں پر مرکز قائم ہوئے ہیںلیکن بھوپال میں اس تعلق سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہے جس پر ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کے لئے AMUOBA کو بہت ہی اہم اور کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے۔ لیکن افسوس کے آج تک اس پر کسی نے توجہ تک نہیں دی۔اس کے ساتھ بھوپال میں اردو، عربی اور فارسی زبانوں کے فروغ کے لیے ایک یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاکہ ان زبانوں، ان کے علمی و ادبی ورثے اور ان سے وابستہ تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔
اپنے خطاب میں سر سید کے مشن کو عملی شکل دینے کے لیے حکومت، علیگ برادری اور مسلم معاشرے کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اعتبار سے پسماندہ علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کے قیام، مستحق طلبہ کے لیے اسکالرشپ، ہاسٹل اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کی سہولتوں میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و تحقیقی ترقی اور ضروری وسائل کی فراہمی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوںنے مزید علیگ برادری اور اے ایم یو اولڈ بوائز سے اپیل کی کہ وہ سر سید ڈے کی تقریبات اور تقاریر سے آگے بڑھ کر اپنی علمی، پیشہ ورانہ اور مالی صلاحیتوں کو نئی نسل کی تعلیمی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ ان کے مطابق مختلف شہروں میں تعلیمی رہنمائی مراکز قائم کیے جائیں، مستحق طلبہ کے لیے مستقل اسکالرشپ فنڈ بنایا جائے اور علیگ برادری کے افراد طلبہ کی اعلیٰ تعلیم، کیریئر اور روزگار کے سلسلے میں رہنمائی کی ذمہ داری قبول کریں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ علیگ تنظیمیں اپنے تعلیمی اقدامات کے اہداف مقرر کریں اور ان کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیں۔نوابین بھوپال سکندر جہاں بیگم، شاہجہاں بیگم، سلطان جہاں بیگم، نواب حمید اللہ خان تمام کا علی گڑھ سے بہت ہی گہرہ تعلق رہا ہے ۔ سبھی نے AMUکی بڑھ چڑھ کر دامِ درمِ سخن مدد کی ۔ واضح رہے کہ اکیلے بھوپال ریاست نے جو خدمات کی ہیں شاید ہی کسی اور نے اس طرح کی ہو۔ بھوپال میں اُردو زبان کا اہم مقام ہے ایسے میں بھوپال میں اُردو سرگرمیوں کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکتی ہے۔پروگرام کے چیف گیسٹ پروفیسر ظل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں سر سید احمد خان کی تعلیمی خدمات اور ان کی دور اندیش فکر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، خود اعتمادی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ سر سید نے اپنے دور میں مسلمانوں کو جدید تعلیم اور علمی ترقی کی طرف متوجہ کیا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے مشن کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا جائے اور نوجوانوں میں تعلیم، تحقیق، سائنسی فکر اور سماجی ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جائے۔
پروگرام میں پروفیسر یاسین احمد، سائنس دان شیلندر کمار اور دیگر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے تعلیم کے فروغ، سائنسی مزاج، تحقیق، فنی تربیت اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر یہ تجاویز بھی سامنے آئیں کہ مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے اور طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ سائنس، کمپیوٹر اور جدید فنی مہارتوں کے حصول کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مقررین نے مسلم معاشرے، صاحبِ استطاعت افراد اور سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ غریب بچوں کی تعلیم، لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم اور نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ مستحق طلبہ کی فیس، کتابوں اور دیگر تعلیمی ضروریات کے لیے مستقل تعلیمی فنڈ قائم کرنے اور تعلیم سے محروم بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے منظم اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
سر سید کی علمی اور اصلاحی فکر کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے ان کی تحریروں اور تعلیمی نظریات پر تحقیق کو فروغ دینے، نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کے پیغام کو مختلف زبانوں میں عام کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ مقررین نے کہا کہ سر سید ڈے کو محض سالانہ تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تعلیمی منصوبہ بندی، طلبہ کی رہنمائی اور عملی سماجی خدمت سے جوڑنا چاہیے۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سر سید احمد خان کو یاد کرتے وقت ان کے ان رفقا کی خدمات اور قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے جنہوں نے سر سید تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا سب کچھ وقف کر دیا تھا۔ بالخصوص ان کے غیر مسلم دوستوں اور معاونین کی خدمات کو بھی اسی احترام کے ساتھ یاد کیا جانا چاہیے۔ سر سید کی تحریک اس بات کی روشن مثال ہے کہ تعلیم، علم اور سماجی اصلاح کے لیے مختلف مذاہب کے افراد مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ان مشترکہ تاریخی روایات کو نئی نسل تک پہنچانا آج کے دور میں باہمی احترام، محبت اور سماجی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے بھی ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر یہ عزم بھی اجاگر کیا گیا کہ سر سید احمد خان کو حقیقی خراجِ عقیدت ان کے تعلیمی مشن کو عملی طور پر آگے بڑھانے سے ہی ممکن ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، علیگ برادری اپنی علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نئی نسل کے لیے بروئے کار لائے اور سماجی و تعلیمی ادارے مل کر ایسا ماحول پیدا کریں جس میں کوئی بھی باصلاحیت طالب علم وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔
گردش لہو کو، وقت کو رفتار دے گیا
تہذیب علم و فن ہمیں کردار دے گیا
جو علم سے تھے دور اُنہیں دے گیا قلم
اہل قلم جو تھے انہیں گفتار دے گیا
ہوتیں ہمارے سر پہ پھٹی ٹوپیاں مگر
وہ جاتے جاتے ہم کو اک دستار دے گیا
پروگرام کی میزبانی جناب نواب رضا صاحب، ڈائریکٹر مہاکوشل گروپ آف انڈسٹریز نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض تسنیم حبیب نے انجام دیے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اعظم علی خان، صدر اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن،ڈاکٹر ابو کاشف انور، عتیق احمد (خزانچی) اوراموبا کے تمام ہی ممبران کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں علیگس، میڈیا پرسن اور دیگر لوگوں نے شرکت کی ۔اخیر میں ترانۂ علی گڑھ کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔اظہار تشکراموبا کے صدر اعظم علی خان نے کیا۔