نئی دہلی19اکتوبر: ’’ہندوستان اور یورپ کا موازنہ کرنا سیب اور سنترے کا موازنہ کرنے جیسا ہے۔ سینئر صحافیوں سے بہتر کی توقع کی جاتی ہے، چاہے ان کا تعلق دائیں بازو کے نظام سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ یہ تبصرہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور قومی ترجمان پون کھیڑا نے آج اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک تفصیلی پوسٹ میں کیا ہے۔ انھوں نے دائیں بازوں کے میڈیا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ایک بار پھر ایک فرسودہ اور خطرناک تصور کو دہرا رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو فطری طور پر تشدد پسند، عسکریت پسند، وحشی اور غیر مہذب کے طور پر پیش کرنا اور یورپ میں ہونے والے احتجاج کو ایک ’مسلم مسئلہ‘ ظاہر کر رہے ہیں۔ اس سے جو اشارہ ملتا ہے وہ بالکل واضح ہے، یعنی ہندوستان کو بھی اپنے یہاں موجود ’مسلم مسائل‘ سے خبردار رہنا چاہیے۔‘‘ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’بات صرف یورپ کو ایک عبرت ناک مثال کے طور پر پیش کرنے کی نہیں ہے۔ ہم نے ہندوستان میں بھی یہی طریقۂ کار، یہی ہتھکنڈے بارہا استعمال ہوتے دیکھے ہیں۔ دہلی میں حالیہ احتجاج کے دوران بھی آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو مسلمانوں کا بھیس بنا کر فرقہ وارانہ انتشار بھڑکانے اور تشدد کا سہارا لینے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔‘‘ بعد ازاں وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’اس کے مقاصد کیا ہیں؟ تعلیم، انتخابی دیانت داری، شفافیت اور انصاف کے لیے چلائی جانے والی پُرامن اور جائز تحریکوں کو ’عبدل‘ کے نام نہاد ’ ہندوستان مخالف ایجنڈے‘ کا حصہ قرار دے کر بدنام کرنا اور ہندوستانی مسلمانوں کو ویلن کے طور پر پیش کرنا۔‘‘ اس معاملہ کو مزید واضح کرتے ہوئے پون کھیڑا نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہاں ایک بنیادی فرق ہے، جسے یہ بیانیہ جان بوجھ کر چھپاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں احتجاج کرنے والے ہی فساد برپا کر رہے ہیں۔
ہندوستان میں ایسا کرنے والے حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے غیر ریاستی عناصر، یعنی آر ایس ایس کے دستے ہیں۔ مودی-شاہ کی پولیس نے بارہا پُرامن مظاہرین کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا ہے اور دائیں بازو کے ان ’کارکنوں‘ نے بھی ایسا کیا ہے جو پولیس کا روپ دھارے ہوئے تھے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر 2 مختلف صورت حال ہیں۔ ان دونوں کو ایک جیسا قرار دینا تجزیہ نہیں، بلکہ پروپیگنڈا ہے۔