بھوپال:17؍اکتوبر:مدھیہ پردیش میں ماہی پروری کے شعبے میں سرمایہ کاری، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے امکانات کو نئی سمت دینے کے مقصد سے 23 اکتوبر 2026 کو بھوپال کے کشابھاؤ ٹھاکرے بین الاقوامی کنونشن سینٹر میں فشریز انویسٹرز اینڈ ایکسپورٹرز کانکلیو-2026 کا انعقاد کیا جائے گا۔ ماہی گیر بہبود اور ماہی پروری کی ترقی کے وزیر مملکت مسٹر نارائن سنگھ پنوار نے بتایا کہ کانکلیو کا بنیادی مقصد مدھیہ پردیش سمیت ملک کی اندرونِ ملک ماہی پیداوار کو جدید پروسیسنگ اکائیوں، کولڈ چین بنیادی ڈھانچے، ویلیو ایڈیشن اور قومی و بین الاقوامی برآمدی منڈیوں سے جوڑنا ہے۔ کانفرنس میں ملک کے اہم سرمایہ کار، برآمد کنندگان، ماہی پروری کے کاروباری افراد، اسٹارٹ اپس اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین شرکت کرکے ماہی پروری کی صنعت میں سرمایہ کاری اور کاروبار کو وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔مدھیہ پردیش میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار ہیکٹر آبی رقبہ دستیاب ہے، جو اندرونِ ملک ماہی پروری، کیج کلچر اور ماہی پروری پر مبنی صنعتوں کی ترقی کے وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ اس آبی دولت کا بہتر استعمال کرکے مچھلی کی پیداوار کے ساتھ پروسیسنگ، مارکیٹنگ اور برآمدات کو فروغ دیا جائے اور ماہی پروری کرنے والوں کی آمدنی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جائے۔
کانکلیو میں ’مدھیہ پردیش ریاستی ماہی پروری سرمایہ کاری اور برآمدات کی حوصلہ افزائی پالیسی-2026‘ اور اندرونِ ملک ریاستوں کی مچھلی کی برآمدی صلاحیت بڑھانے سے متعلق معیاری عملی طریقہ کار (SOP) کا اجرا کیا جائے گا۔ پروگرام میں مربوط کیج کلچر اکائیوں کا ورچوئل افتتاح بھی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے آبی ذخائر اور امرت سرووروں کی مربوط ترقی سے متعلق منصوبوں کے انتظامی منظوری کے خطوط فراہم کیے جائیں گے۔
کانفرنس میں ماہی پروری سے وابستہ مستفیدین کی حوصلہ افزائی کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (KCC)، ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں، اسٹارٹ اپس اور پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا کے تحت منتخب مستفیدین کو سرٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے جائیں گے۔کانکلیو مدھیہ پردیش کو اندرونِ ملک مچھلی کی پیداوار کے ساتھ مچھلی کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے ایک اہم مرکز کے طور پر ترقی دینے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔ اس سے ماہی پروری کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، جدید بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے اور مقامی سطح پر روزگار اور خود روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کو رفتار ملے گی۔