نئی دہلی16اکتوبر: مرکزی حکومت نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایئرلائنز کے ذریعے وصول کیے جانے والے ہوائی کرایوں اور اضافی فیس کو منضبط کرنے کے لیے ضوابط تیار کر لیے گئے ہیں اور انہیں انتظامی منظوری بھی مل چکی ہے۔ حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ یہ ضوابط آئندہ دو ہفتوں کے اندر جاری کر دیے جائیں گے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 16 نومبر کو ہوگی۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد ہدایت دی کہ اگلی سماعت کے دوران جاری کردہ ضوابط عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔ یہ معاملہ سماجی کارکن ایس لکشمی نارائن کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) سے متعلق ہے۔ عرضی میں شہری ہوابازی کے شعبے میں غیر شفاف، استحصالی اور الگورتھم پر مبنی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسافروں کے لیے مفت چیک اِن سامان کی مقررہ حد میں کمی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔
سپریم کورٹ ہوائی کرایوں میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ، خاص طور پر تہواروں، تعطیلات اور سفر کے مصروف اوقات میں ٹکٹوں کی قیمتوں میں ہونے والے بھاری اضافے اور ایئرلائنز کی جانب سے وصول کیے جانے والے اضافی چارجز سے متعلق
خدشات پر غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے زبانی طور پر تبصرہ کیا تھا کہ نجی ایئرلائنز کے ذریعے وصول کیے جانے والے ہوائی کرایوں میں کچھ معقولیت ہونی چاہیے۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے ہوائی مسافروں کو راحت فراہم کرنے کی کوشش کرنے کو بھی کہا تھا۔ عدالت نے مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہی دن، ایک ہی مقام کے لیے جانے والی پروازوں میں ایک ایئرلائن اکانومی کلاس کا کرایہ 8000 روپے وصول کرتی ہے، جب کہ دوسری ایئرلائن اسی سفر کے لیے 18000 روپے لیتی ہے۔
بنچ کے مطابق، کرایوں میں اس طرح کے فرق کے معاملے میں کچھ معقولیت ہونی چاہیے۔