رائسین:16؍اکتوبر(پریس ریلیز) وزیرِ اعلیٰ مدھیہ پردیش کی جانب سے چلائی جا رہی مکھیہ منتری جن وشواس ابھیان کے تحت جمعہ کے روز ضلع رائسن کے غیرت گنج ترقیاتی بلاک کی گرام پنچایت گڑھی میں ضلع سطح کے عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کیمپ منعقد کیا گیا۔ کیمپ میں نووارد کلکٹر جناب روہت سسونیا اور کمشنر لینڈ ریسورس مینجمنٹ محترمہ ندھی نویدیتا نے شرکت کی اور دیہی عوام سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے ان کی شکایات اور مسائل سنے۔
کلکٹر نے عوام کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت دی کہ موصولہ درخواستوں کی جانچ کرکے قواعد کے مطابق جلد از جلد کارروائی کی جائے۔ سرکاری اسکیموں پر عمل درآمد کی زمینی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے دوران کلکٹر نے آدیواسی طلبہ ہاسٹل میں پائی جانے والی بدانتظامی پر ناراضگی ظاہر کی اور انتظامات بہتر بنانے کے لیے افسران کو مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کی ہدایت دی۔گڑھی میں منعقدہ کیمپ کے دوران کلکٹر روہت سسونیا نے آدیواسی طلبہ ہاسٹل کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران ہاسٹل میں رنگ و روغن اور صفائی ستھرائی کی کمی، نیز بستروں پر پرانی چادریں دیکھ کر انہوں نے ناراضگی ظاہر کی۔کلکٹر نے ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ مہیش وشوکرما کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ 15 دن کے اندر صفائی، رنگ و روغن اور دیگر ضروری انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ ہاسٹل کا معائنہ کیا جائے گا اور انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
کلکٹر کی اس کارروائی سے ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کیے جانے اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔عوامی شکایات کی سماعت کے دوران وزیرِ اعظم آواس یوجنا سے متعلق ایک معاملہ سامنے آیا۔ ایک مستحق شخص نے بتایا کہ اسے مکان کی تعمیر کے لیے گزشتہ 11 ماہ سے قسط موصول نہیں ہوئی ہے۔معاملے کی اطلاع ملنے پر کلکٹر نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ آواس شاخ کے انچارج کو دو دن کے اندر مسئلے کا حل نکالنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت میں مستحق کو راحت فراہم نہیں کی گئی تو متعلقہ ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔کلکٹر کے اس حکم سے یہ پیغام دیا گیا کہ سرکاری اسکیموں کے مستحق افراد کو ان کا حق دلانے میں کسی بھی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔کلکٹر روہت سسونیا نے دیہی عوام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ جن وشواس ابھیان کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل، سرکاری خدمات کو آسان بنانا اور فلاحی اسکیموں کا فائدہ مستحق افراد تک پہنچانا ہے۔کیمپ میں مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے اسٹال لگائے گئے، جہاں عوام کو متعلقہ اسکیموں، سرکاری خدمات اور اہلیت کے معیار کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ کلکٹر نے دیہی عوام سے سرکاری اسکیموں کے نفاذ اور انہیں حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں بھی معلومات لیں۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی شکایات کے ازالے میں کسی بھی قسم کی لاپروائی نہ برتی جائے۔ کیمپ میں موصول ہونے والی درخواستوں پر مقررہ مدت میں کارروائی کی جائے اور درخواست گزاروں کو مسئلے کے حل سے متعلق آگاہ کیا جائے، تاکہ عوام کو معمولی کاموں کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
کیمپ کے مقام پر مختلف محکموں کی جانب سے اسٹال لگاکر دیہی عوام کو سرکاری اسکیموں اور خدمات سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ کلکٹر نے اسٹالوں کا معائنہ کیا اور افسران سے موصولہ درخواستوں، اسکیموں کے نفاذ اور مستحق افراد کو فراہم کیے جانے والے فوائد کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔انہوں نے ہدایت دی کہ کیمپ کا فائدہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد تک پہنچایا جائے اور ہر درخواست پر مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔
کیمپ کے دوران محکمہ زراعت کی جانب سے کسانوں کو مختلف زرعی اسکیموں کے تحت فوائد فراہم کیے گئے۔ کلکٹر روہت سسونیا اور کمشنر لینڈ ریسورس مینجمنٹ محترمہ ندھی نویدیتا نے جنگلاتی زمین کے پٹہ دار کسانوں موہن سنگھ، سون سنگھ، سنگرام، منگو، گوپال سنگھ اور پدم سنگھ سمیت دیگر کسانوں میں چنے کی جدید قسم JG-202 کے تصدیق شدہ بیج تقسیم کیے۔محکمہ زراعت کے مطابق چنے کی یہ قسم زرعی کالج سیہور نے تیار کی ہے۔ یہ فصل تقریباً 90 سے 105 دن میں پک کر تیار ہوجاتی ہے۔ موزوں موسمی حالات اور دو مرتبہ آب پاشی کی صورت میں اس سے فی ہیکٹر 20 سے 25 کوئنٹل تک پیداوار حاصل کرنے کی صلاحیت بتائی گئی ہے۔
یہ قسم فیوزیریم وِلٹ نامی بیماری کے خلاف مزاحمت بھی رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ کسان نیرج راجپوت اور وجے کو 50 فیصد سبسڈی پر پاور اسپریئر فراہم کیے گئے، جبکہ بابولال، لال چند، بھوپیندر اور سدھا بائی سمیت چار کسانوں کو سوئل ہیلتھ کارڈ تقسیم کیے گئے۔
کیمپ میں آتما پروجیکٹ کے ڈائریکٹر نے کسانوں کو محکمہ زراعت کی مختلف اسکیموں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ کسانوں کو دھان کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات (نروائی) نہ جلانے اور قدرتی کاشتکاری اپنانے کے لیے بھی بیدار کیا گیا۔کیمپ میں گرام پنچایت گڑھی کے سرپنچ سید مسعود علی پٹیل، سید ساجد علی پٹیل، ضلع پنچایت رکن محترمہ اوشا سونو مینا، منڈل صدر ویر سنگھ پٹیل، جن پد رکن فیمیدہ بی رضوان خاں، نائب سرپنچ برجیش جاٹو، سابق سرپنچ بھاگ چند چورسیا، سابق جن پد رکن کھیم چند چورسیا، ڈاکٹر کیلاش سونی، موہن ماہیشوری، سرپنچ روی پٹیل سمیت بڑی تعداد میں عوامی نمائندے اور مختلف سرکاری محکموں کے افسران موجود رہے۔
جن وشواس کیمپ سے عوام کو مسائل پیش کرنے کا موقع ملا
گڑھی میں منعقدہ ضلع سطح کے اس کیمپ کے ذریعے دیہی عوام کو اپنے مسائل براہِ راست ضلع انتظامیہ کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔ آدیواسی طلبہ ہاسٹل کی بدانتظامی دور کرنے کے لیے 15 دن کی مدت مقرر کرنے اور وزیرِ اعظم آواس یوجنا کی زیرِ التوا قسط کے معاملے میں دو دن کے اندر کارروائی کی ہدایت دینے سے سرکاری محکموں کی جواب دہی اور عوامی مسائل کے فوری ازالے پر زور دیا گیا۔