ترانہ (ضلع اجین):06؍اکتوبر: مدھیہ پردیش اردو اکادمی، مدھیہ پردیش سنسکرتی پریشد محکمۂ ثقافت کے زیرِ اہتمام 6 اکتوبر کو ہوٹل شری کرپا، توتلا مارگ، ترانہ میں ’شامِ غزل‘ کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں غزل گائیکی کی دلکش پیشکشوں نے موسیقی اور غزل کے شائقین کو دیر تک محظوظ کیے رکھا۔
اس موقع پر ڈاکٹر نصرت مہدی، ڈائریکٹر، مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے کہا کہ “غزل ہندوستانی موسیقی اور تہذیبی روایت کا ایک اہم حصہ ہے، جو زبان کی حدود سے بالاتر ہو کر براہِ راست سامعین کے دلوں تک پہنچتی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت، محکمۂ ثقافت کی ہدایت کے مطابق اردو اکادمی کی کوشش ہے کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں ایسے ثقافتی پروگرام منعقد کرکے اردو ادب اور موسیقی کی خوبصورت روایت کو عوام تک پہنچایا جائے اور مقامی فن کاروں اور سامعین کو معیاری ثقافتی پیشکشوں سے جوڑنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ترانہ میں منعقد ہونے والی ’شامِ غزل‘ بھی اسی ثقافتی مقصد کی ایک کڑی ہے۔ ایسے پروگرام ہماری مشترکہ ثقافتی وراثت کو محفوظ رکھنے، اسے نئی نسل تک پہنچانے اور ریاست میں فن و ثقافت کے ماحول کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
مقامی کنوینر جناب سنیل گائیڈ نے کہا کہ “ترانہ میں اس سطح پر غزل گائیکی کا پروگرام منعقد ہونا موسیقی کے شائقین کے لیے ایک خاص موقع تھا۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے ترانہ کے سامعین کو بہترین غزل گائیکی سننے کا موقع فراہم کرکے یہاں کی ثقافتی سرگرمیوں میں ایک نیا رنگ شامل کیا ہے۔”
پروگرام میں بھوپال کی غزل گائیکہ کُہو پریا اور روپیش لال نے اپنی دلکش پیشکش سے سماں باندھ دیا۔
کُہو پریا نے ’کہاں ہو تم‘، ’الٹی ہو گئیں سب تدبیریں‘، ’رفتہ رفتہ‘، ’دلِ ناداں‘، ’وہ دے رہے ہیں دلاسے‘، ’دوست‘، ’لگایا دل بہت پر‘، ’پھر چھڑی رات‘، ’زندگی جب بھی تری بزم میں‘، ’سادگی‘ اور ’آفرین آفرین‘ جیسی مقبول غزلوں کی مؤثر پیشکش کی۔وہیں روپیش لال نے ’چٹھی آئی ہے وطن سے‘، ’الجھنے اور بڑھاتے کیوں ہو‘، ’ہم تیرے شہر میں آئے ہیں‘، ’یار کی کوئی خبر لاتا نہیں‘، ’کبھی تو آسماں سے چاند اترے‘، ’پیار کا پہلا خط لکھنے میں‘، ’تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا‘، ’ہوش والوں کو خبر کیا‘، ’جھکی جھکی سی نظر‘، ’تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا‘، ’رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا‘ اور ’رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے آ‘ جیسی غزلیں اپنی آواز میں پیش کیں۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں موسیقی اور غزل کے شائقین موجود رہے اور انہوں نے فن کاروں کی پیشکش سے لطف اٹھایا۔ پروگرام کے اختتام پر ممتاز خان نے تمام حاضرین اور پروگرام سے وابستہ افراد کا شکریہ ادا کیا۔