بھوپال، 05 اکتوبر: مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے ریاست میں کسانوں کی ابتر حالت، خشک سالی اور آبپاشی کے بحران پر وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا کسان کم بارش، فصلوں کے سوکھنے، بجلی کے بحران اور منڈیوں میں مناسب قیمت نہ ملنے کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہے، مگر مسائل کے ازالے کے بجائے حکومت کسانوں کے متوقع احتجاج کو کچلنے کے لیے پولیس چھاؤنی اور رکاوٹیں بنانے میں لگی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جولائی کی مونگ تحریک کے بعد حکومت جمہوری احتجاج سے اس قدر خوف زدہ ہے کہ دہلی کسان تحریک کی طرز پر بھوپال کے 16 انٹری پوائنٹس پر کنکریٹ کے بلاکس، کنٹینرز، خاردار تاریں اور عارضی ناکابندی لگا کر کسانوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے، جبکہ حکومت کو ناکابندی کے بجائے ہر ڈویژن میں کسان سمادھان کیندر قائم کر کے ان کے دکھ درد سننے چاہیے تھے۔
جیتو پٹواری نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یکم جون سے 30 ستمبر کے دوران ریاست میں معمول سے کم بارش ہوئی ہے اور بالخصوص اندور ڈویژن میں تقریباً 33 فیصد بارش کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کم بارش کے ساتھ ساتھ نہری نظام تباہی کے دہانے پر ہے، سنجے سروور پروجیکٹ کی 40 سال پرانی نہریں خستہ حال ہیں اور پینچ پروجیکٹ کے آخری سرے تک پانی پہنچانے کے لیے حکومت نومبر 2027 کی تاریخ دے رہی ہے، جبکہ کسان کو فوری پانی درکار ہے۔ انہوں نے بھاونتر اسکیم کے اندراج کو کاغذی کارروائی کے بجائے زمینی سطح پر ایم ایس پی اور مارکیٹ قیمت کے فرق کی ادائیگی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے ہیں، جن میں کم بارش سے متاثرہ 30 اضلاع میں فوری خصوصی گردآوری اور معاوضہ، سویابین سمیت تمام فصلوں پر ایم ایس پی کی فراہمی، ربیع سیزن کے لیے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کا واضح روسٹر، جلے ہوئے ٹرانسفارمروں کی 48 گھنٹوں میں تبدیلی کے ساتھ 10 سے 12 گھنٹے تھری فیز بجلی کی فراہمی، اور کسانوں کے داخلے کو روکنے کے پولیس پلان کو فوری منسوخ کرنا شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسان کو بیریکیڈز نہیں بلکہ منڈی اور پیداوار کی پوری قیمت چاہیے، اور اگر حکومت نے کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کی تو کانگریس سڑک سے ایوان تک ان کے شانہ بشانہ لڑے گی۔









