بھوپال:04؍اکتوبر:جاپان کے آیچی-ناگویا میں منعقد ایشین گیمز 2026 میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی صلاحیت کی چمک پوری دنیا نے دیکھی ہے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت، محنت اور جذبے کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا کو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی کھیلوں کی طاقت سے متعارف کرایا۔ ترنگے کی آن، بان اور شان کے لیے میدان میں اترنے والے ہمارے باصلاحیت کھلاڑیوں نے 21 طلائی، 27 چاندی اور 37 کانسی سمیت کل 85 تمغے جیت کر تمغوں کی فہرست میں ہندوستان کو قابلِ فخر چوتھا مقام دلایا۔ یہ کامیابی صرف تمغوں کی تعداد نہیں بلکہ ہندوستان کی نوجوان کھیلوں کی صلاحیت کے مسلسل نکھرتے ہوئے عزم اور عالمی کھیلوں کے میدان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی سنہری چمک ہے۔ وہیں اس مقابلے میں مدھیہ پردیش کے کھلاڑیوں نے 10 تمغے، جن میں 5 طلائی، 4 چاندی اور 1 کانسی کا تمغہ شامل ہے، حاصل کرکے اپنی اعلیٰ صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور قوم کی اس قابلِ فخر کامیابی میں خصوصی تعاون دیا ہے۔ملک کے کامیاب وزیرِ اعظم مِسٹر نریندر مودی جی کی مؤثر قیادت میں آج کھیل ہندوستان کی قومی ترجیحات میں ایک اہم مقام بنا چکا ہے۔ مودی جی کی رہنمائی اور مرکزی کھیل وزیر ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ جی کی قیادت میں کھیلو انڈیا جیسی اسکیم کے ذریعے ملک میں کھیلوں کی ثقافت کو مضبوط بنانے، صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں آگے بڑھانے پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔ چھوٹے شہروں، گاؤں اور عام خاندانوں سے آنے والے نوجوان آج بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اب ان کے پاس صرف صلاحیت ہی نہیں بلکہ اسے نکھارنے کے لیے مواقع، تربیت اور مسابقتی ماحول بھی دستیاب ہو رہا ہے۔ وزیرِ اعظم جی کا یہ وڑن کہ ہندوستان کا نوجوان صرف کھیلوں میں حصہ لینے والا نہ ہو بلکہ دنیا میں ہندوستان کی قیادت کرنے والا بنے، آج میدانوں میں نظر آ رہا ہے۔ مٹی کے میدانوں سے لے کر جدید اسپورٹس کمپلیکس تک، اسکولوں سے لے کر بین الاقوامی اسٹیڈیم تک، ہندوستان کی نئی نسل کھیلوں کو اپنا مستقبل بنانے کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
وہیں مدھیہ پردیش میں بھی ہم وزیرِ اعظم جی کے وژن کو مدِنظر رکھتے ہوئے اور وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو جی کی قیادت میں کھیل، کھلاڑی اور کھیل کے میدانوں کی ترقی و توسیع کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست میں 18 کھیلوں کی 11 اکادمی چلائی جا رہی ہیں۔ ان اکادمیوں میں عالمی سطح کی تربیتی سہولیات دستیاب ہیں۔ نئی سی ایم اسپورٹس کمپلیکس اسکیم کے تحت ریاست کی تمام 230 اسمبلی حلقوں میں کھیل احاطوں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ کھیلو ایم پی یوتھ گیمز، پارتھ اسکیم، کھیلو بڑھو مہم، ٹیلنٹ سرچ، سمر کیمپ سمیت دیگر پروگراموں کے ذریعے نئی صلاحیتوں کی تلاش اور انہیں نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اس مقابلے میں ہندوستان کے کھلاڑیوں نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کرکے عالمی سطح پر ملک کو فخر کا موقع دیا ہے۔ ہندوستان کے کل تمغوں میں ایتھلیٹکس کا سب سے بڑا تعاون رہا، جس میں کل 24 تمغے جیتے گئے۔ اس کے بعد شوٹنگ کا نمبر رہا، جس میں 15 تمغے حاصل ہوئے۔ ان میں تین مرتبہ کھلاڑی ٹاپ پوڈیم پر رہے۔ باکسنگ میں بھی تین طلائی تمغے ملے، جن میں لولیینا بورگوہین بھی شامل تھیں۔ تیر اندازی میں سب سے زیادہ پانچ مرتبہ کھلاڑی ٹاپ پوڈیم پر رہے۔ امن سہراوت اور سْجیت کلکل نے ریسلنگ میں ایشین گیمز چیمپئن کا خطاب جیتا۔ ہندوستان کی خواتین اور مردوں کی کرکٹ، کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے گولڈ میڈل حاصل کیے۔ نیرو ڈھانڈا، کْم کْم موہود، گْلویر سنگھ اور وِتھیا رام راج جاپان میں ہندوستان کی نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایتھلیٹس میں شامل رہے، جنہوں نے کئی تمغے جیتنے میں تعاون دیا۔ سْچیکا تاریال نے خواتین کے ٹریڈیشنل-60 کلوگرام زمرے میں برونز میڈل جیت کر مکسڈ مارشل آرٹس میں ہندوستان کا پہلا ایشین گیمز تمغہ حاصل کیا۔ سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد جے مینا نے سافٹ ٹینس میں بھی یہی کارنامہ دہرایا۔ ہندوستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر اپنا خطاب برقرار رکھا اور اس ٹورنامنٹ میں ملک کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ بعد میں مردوں کی ٹیم نے بھی فائنل میں پاکستان کو زبردست شکست دے کر اپنا خطاب کامیابی سے برقرار رکھا۔ وہیں شوٹر نیرو ڈھانڈا نے خواتین کے ٹریپ ایونٹ میں کامیابی حاصل کرکے ایشین گیمز 2026 میں ہندوستان کا پہلا انفرادی گولڈ میڈل جیتا۔ میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام زمرے میں سلور میڈل جیتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 1998 کے بینکاک گیمز کے بعد ویٹ لفٹنگ میں ہندوستان کے لیے پہلا ایشین گیمز تمغہ حاصل کیا۔ روشِبینا دیوی نے بھی ووشو میں مسلسل اپنا تیسرا براعظمی تمغہ جیتا۔ سیما کماری نے بھی ایشین گیمز میں خواتین کی 10,000 میٹر دوڑ میں تمغہ جیت کر ہندوستان کو 16 سال بعد تمغہ دلایا۔ کمل جیت اور سْروچی سنگھ نے مکسڈ ٹیم 10 میٹر ایئر پسٹل میں گولڈ میڈل جیتنے کے دوران ایشین ریکارڈ کی برابری کی۔ بارانیکا ایلنگوون نے برونز میڈل جیتا اور ایشین گیمز میں تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی پول والٹر بن گئیں۔ ساون بروال نے نیا قومی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1982 کے بعد میراتھن میں ہندوستان کا پہلا تمغہ جیتا۔ اسکواش میں انایت سنگھ ایشین گیمز میں خواتین کے سنگلز میں سلور میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی بنیں۔ وِتھیا رام راج نے خواتین کی 400 میٹر ہرڈل ریس میں برونز میڈل جیت کر 42 سال پرانا قومی ریکارڈ توڑ دیا۔ جیولن تھرو ایونٹ میں یش ویر سنگھ اور روہت یادو نے ہندوستان کے لیے دو تمغے یقینی کیے۔ انہوں نے بالترتیب سلور اور برونز میڈل جیتے۔ چِکیتا تنیپارتی اور ساحل جادھو نے کمپاؤنڈ مکسڈ ٹیم ایونٹ میں گولڈ میڈل جیت کر ایل اے 2028 اولمپک کوٹا حاصل کیا۔ انکیتا بھکت، کْم کْم موہود اور کیرتی شرما نے فائنل میں جنوبی کوریا کو شکست دے کر ایشین گیمز میں ہندوستان کے لیے خواتین کی ٹیم ریکرو ایونٹ کا پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ عظیم باکسر میری کوم (انچیون 2014) کے بعد ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی لولیینا بورگوہین دوسری ہندوستانی خاتون باکسر بن گئیں۔ ہندوستان نے 44 سال بعد ایشین گیمز میں خواتین کی ہاکی کا خطاب بھی جیتا۔ 17 سالہ کْم کْم موہود اس براعظمی مقابلے میں انفرادی ریکرو گولڈ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بنیں۔ پرنوی ارس گالف میں گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بنیں۔وہیں مدھیہ پردیش کے کھلاڑیوں نے بھی اس قابلِ فخر کامیابی میں اہم تعاون دیا۔
مدھیہ پردیش ریاستی شوٹنگ اکادمی کی کھلاڑی نیرو ڈھانڈا نے شوٹنگ (شاٹ گن) کے خواتین کے ٹریپ انفرادی مقابلے میں طلائی، ٹریپ مکسڈ ٹیم میں طلائی اور خواتین کے ٹریپ ٹیم میں چاندی کا تمغہ سمیت نیرو نے 3 تمغے حاصل کرکے تاریخ رقم کی۔ منیشا کیر نے شوٹنگ (شاٹ گن) خواتین کے ٹریپ ٹیم میں چاندی کا تمغہ، ایشوریہ پرتاپ سنگھ نے شوٹنگ (رائفل) 50 میٹر رائفل 3 پوزیشن مردوں کی ٹیم میں سلور میڈل، آشی چوکسے نے شوٹنگ (رائفل) 50 میٹر رائفل 3 پوزیشن خواتین کی ٹیم میں سلور میڈل، مردوں کی ہاکی ٹیم کا حصہ رہے وویک ساگر نے گولڈ میڈل، خواتین کی ہاکی ٹیم کا حصہ رہیں ایشیکا چودھری نے گولڈ میڈل، کرانتی گور نے کرکٹ (ٹیم ایونٹ) میں گولڈ میڈل، جے مینا نے سافٹ ٹینس (انفرادی مقابلہ) میں کانسی کا تمغہ حاصل کرکے ریاست اور ملک کا نام روشن کیا ہے۔
ہندوستان کے نوجوان کھلاڑی آج صرف تمغے نہیں جیت رہے، بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے خوابوں کی نئی حد مقرر کر رہے ہیں۔ تمغوں کے پوڈیم پر جب ہندوستانی کھلاڑی ترنگے کو اپنے کندھوں پر لے کر کھڑے ہوتے ہیں اور قومی ترانے کی دھن بجتی ہے، تب وہ لمحہ صرف کھلاڑی کا نہیں ہوتا بلکہ وہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کے فخر کا لمحہ ہوتا ہے۔ ایشین گیمز میں چمکے ہندوستان کے ان ستاروں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ہندوستان کی نوجوان طاقت دنیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر تاریخ رقم کر سکتی ہے۔