کولکاتایکم اکتوبر: کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کو مبینہ طور پر ایک مخصوص برادری کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے معاملے میں راحت دیتے ہوئے ان کے خلاف گرفتاری سمیت کسی بھی سخت کارروائی سے حاصل عبوری تحفظ کی مدت 29 جنوری 2027 تک بڑھا دی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ معاملے کی تحقیقات قانون کے مطابق جاری رہیں گی۔ جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی یک رکنی بنچ نے جمعرات کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے مہوا موئترا کو دی گئی عبوری راحت میں توسیع کی۔ عدالت نے انہیں ہدایت دی کہ وہ تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ معاملے کی اگلی سماعت 13 جنوری 2027 کو مقرر کی گئی ہے۔ یہ معاملہ رواں سال مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے بعد مہوا موئترا کے خلاف درج کرائی گئی ایک شکایت سے متعلق ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ 15 جون کو فیس بک پر لائیو نشریات کے دوران مہوا موئترا نے ایسے تبصرے کیے جن سے ایک مخصوص برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ شکایت کے بعد نادیہ ضلع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کریم پور منڈل-4 کے بلاک جنرل سکریٹری ہیراک بھٹاچاریہ نے ہوگلبیریا پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی، جس کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کیں۔ مہوا موئترا نے جولائی میں کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہوگلبیریا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔ 21 جولائی کو جسٹس بھٹاچاریہ کی بنچ نے انہیں عبوری تحفظ دیتے ہوئے گرفتاری سمیت سخت کارروائی پر 5 اکتوبر تک روک لگائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں 14 اگست کو تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوکر پوچھ گچھ میں تعاون کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔









