نئی دہلی 30ستمبر:مغربی ایشیا میں جاری شدید جنگ اور گہرے ہوتے تیل کے بحران کے درمیان ایک ایسا سفارتی موڑ سامنے آیا ہے، جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کل تک ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کو یکسر مسترد کر رہے تھے اور تہران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ بنانے کی بات کہہ رہے تھے، کیا اب وہ اپنے موقف میں نرمی لاتے دکھائی دے رہے ہیں؟ واشنگٹن نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے تہران کو ایک انتہائی اہم اور باضابطہ ’امن تجویز‘ بھیجی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی یہ نئی تجویز براہ راست صدر مسعود پیزشکیان کے حوالے کر دی ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بھی اس کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ اب پوری دنیا کی نظریں تہران پر مرکوز ہیں۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان پردے کے پیچھے کوئی ’بڑی ڈیل‘ تیار ہو رہی ہے؟ کیا دنیا کا اہم ترین تیل کا راستہ ’آبنائے ہرمز‘ ایک بار پھر کھل جائے گا؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے چند ہی دن بعد امریکہ کا یہ نیا قدم سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، قطر کے خفیہ سفارتی ذرائع کے ذریعے یہ امریکی مسودہ تہران پہنچایا گیا ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ آج ہونے والے کابینہ اجلاس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر مسعود پیزشکیان کے سامنے امریکہ کی یہ باضابطہ تجویز پیش کی۔