نئی دہلی 29ستمبر: دہلی میں آج کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں کانگریس نے حکومت کے سامنے کچھ اہم مطالبات رکھے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی جاری کی ہے، جس میں مرکزی حکومت پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ کھڑگے نے لکھا ہے کہ انگریزوں کے دور حکومت کی طرح ایک بار پھر ہندوستان کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی ذمہ داری کانگریس کے کندھوں پر ہے۔ جس طرح انگریزوں سے لڑ کر ووٹ کا حق حاصل کیا تھا، اسی طرح آج بھی اسی حق کو بچانے کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہمارے بزرگوں نے جس مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھی تھی، اسے مودی حکومت نے 12 برسوں میں سازش کے تحت کھوکھلا کر دیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ سازش کے تحت لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر حکومت کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’بابا صاحب نے کہا تھا کہ کسی افسر کی مرضی سے ووٹرز کا نام نہیں کاٹا جائے گا۔ آج افسران بی جے پی اور مودی حکومت کے اشارے پر منمانی سے نام کاٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے حق رائے دہی کو جمہوریت کی سب سے بنیادی چیز قرار دیا تھا، لیکن آج اس کے برعکس ہو رہا ہے۔
عوام نے جسے ووٹ کا چوکیدار بنایا تھا، وہی ووٹوں کا لٹیرا بن گیا ہے۔‘‘
چیف الیکشن کمشنر کو نشانہ بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ جس چیف الیکشن کمشنر پر ان کے اپنے ساتھی بھروسہ نہیں کر رہے، ان پر ملک کیسے بھروسہ کر سکتا ہے؟ کھڑگے نے الزام لگایا کہ خاموشی سے فارم 6 کے ضابطوں میں تبدیلی کروا دی گئی، جو پوری طرح غیر قانونی ہے۔ ملازمت تو دی نہیں اور اب ووٹ کا حق بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ کانگریس صدر کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ ’’کانگریس نے اس ملک کے ادارے بنائے اور انہیں اختیارات سے لیس کیا، لیکن آج وہی ادارے اقتدار کے آگے سر جھکائے کھڑے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس منصوبہ بند طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں۔‘‘