پٹنہ 28ستمبر: پٹنہ میں بہار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (بی یو ایچ ایس) کے میڈیکل طلبہ نے اپنی مختلف مطالبات کو لے کر احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کا تعلیمی سیشن باقاعدگی سے نہیں چل رہا، امتحانات کے نتائج میں تاخیر ہو رہی ہے اور طلبہ کو دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس نے طلبہ کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جس میں بعض طلبہ نے زخمی ہونے کا الزام لگایا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، پٹنہ میں بی یو ایچ ایس کے میڈیکل طلبہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑک پر احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین سیشن کو باقاعدہ کرنے، نتائج بروقت جاری کرنے اور یونیورسٹی سے متعلق دیگر مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی اور اس دوران لاٹھی چارج کیا گیا۔
طلبہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ پولیس کارروائی میں کچھ طلبہ کو چوٹیں بھی آئیں۔ تاہم، پولیس کارروائی کے حوالے سے طلبہ کے ان الزامات کی مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ پٹنہ میں اسی روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا۔ بائیں بازو کی جماعتوں سے وابستہ کارکنوں نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اندرونی فیصلوں اور اختلافات سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں پر تحریری اعتراضات درج کیے۔