نئی دہلی 27ستمبر: کانگریس جنرل سکریٹری اور وائناڈ سے لوک سبھا رکن پرینکا گاندھی واڈرا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنے حملے میں مزید شدت لاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن نے دعویٰ کیا ہے کہ گیانیش کمار نے 2016 میں انہیں 2019 کا لوک سبھا الیکشن بی جے پی کے ٹکٹ پر لڑنے کی پیشکش کی تھی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ انتخابی نظام کی اعلیٰ سطح پر موجود لوگوں اور انتخابات کرانے والے اداروں کے بارے میں ایسے شواہد سامنے آنا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ان کے بقول، اگر انتخابی ادارے سے وابستہ افراد کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہوں اور اس جماعت کی حمایت میں سرگرم کردار ادا کریں تو وہ منصفانہ انتخابات کیسے کرا سکتے ہیں۔
پرینکا نے گیانیش کمار کے استعفے کا
مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے مطابق ایسے کئی اقدامات میں سے ایک ہے جنہیں وہ غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا چاہیے اور وہ بھی فوری طور پر۔سابق کیرالہ چیف سیکریٹری جیجی تھامسن نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ 2016 میں نئی دہلی جانے والی ایک پرواز کے دوران، جب وہ خود کیرالہ کے چیف سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے، گیانیش کمار نے ان سے سیاسی مستقبل کے بارے میں بات کی۔ تھامسن کے مطابق، کمار نے انہیں 2019 کا لوک سبھا الیکشن بی جے پی کے ٹکٹ پر پٹھانم تھٹّا سے لڑنے کی تجویز دی اور کہا کہ کامیابی کے بعد وہ مرکزی وزیر بھی بن سکتے ہیں۔ تھامسن نے بتایا کہ انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔پرینکا گاندھی نے الیکشن کمشنروں کو حاصل قانونی تحفظ پر بھی سوال اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی کمشنروں کو دیا گیا قانونی تحفظ ختم کیا جانا چاہیے اور دعویٰ کیا کہ یہ تحفظ موجودہ حکومت نے انہیں جواب دہی سے بچانے کے لیے فراہم کیا ہے۔ وہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں سے متعلق 2023 کے قانون کی دفعہ 16 کا حوالہ دے رہی تھیں، جس میں بعض حالات میں کمشنروں کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ’انڈیا‘ اتحاد گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں میں اتفاق ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں اس معاملے پر احتجاج بھی کیا گیا ہے۔









