گوہاٹی25ستمبر: آسام کانگریس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی سمیت پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں کو جمعہ کو گوہاٹی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ کانگریس رہنما انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور انتخابی عمل سے متعلق اپنے اعتراضات کے اظہار کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق گورو گوگوئی اور دیگر کانگریس رہنماؤں نے پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر راجیو بھون سے مارچ شروع کیا تھا۔ مظاہرین چیف الیکٹورل افسر کے دفتر کی جانب بڑھ رہے تھے، جہاں انہوں نے گیانیش کمار کا علامتی پتلا جلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پولیس نے راجیو بھون کے قریب بیریکیڈ لگا کر مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ پولیس کے مطابق گوگوئی اور دیگر رہنماؤں نے بیریکیڈ عبور کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا اور چوتھی آسام پولیس بٹالین لے جایا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری منوج چوہان، سیوا دل کے صدر دیپ بیان اور آسام پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری ادت بھانو داس سمیت متعدد کارکن بھی شامل تھے۔ احتجاج کے دوران گورو گوگوئی نے کانگریس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ پارٹی کا احتجاج جمہوری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچ کر انتخابی عمل اور جمہوریت سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرنا چاہتی تھی، لیکن پولیس نے انہیں روک کر حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے کانگریس کارکنان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور بی جے پی کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
مظاہرین نے گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ترجمان بیدبرتا بورا نے پولیس کی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رہنماؤں کو حراست میں لیے جانے پر اعتراض کیا۔