بھوپال 25ستمبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے مرکزی وزیر سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہ مسٹر نتن گڈکری کی موجودگی میں ریاست کے باشندوں کو مدھیہ پردیش سْگم پریوہن سیواکی سوغات دے کر آج کے دن کو تاریخی بنایا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ریاست سطحی پروگرام میں سات شہروں کی 351 انٹر سٹی اور انٹرا سٹی بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو پروگرام کے بعد خود بی ایچ ای ایل دسہرہ میدان سے ٹکٹ لے کر بس سے ہی وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پہنچے۔ ریاست کے باشندوں کو آسان، محفوظ، جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعہ وزیر اعلیٰ سْگم ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جا رہی ہے۔ اس سروس سے شہری اور دیہی علاقوں میں بس کنیکٹیویٹی کو مضبوط کیا جائے گا۔ ریاست کی 75 فیصد گرام پنچایتوں تک ٹرانسپورٹ سروس کی توسیع ہوگی۔ اس انٹر سٹی اور انٹر اسٹیٹ بس سروس کے تحت اگلے 5 سالوں میں 3500 سے زیادہ روٹس پر 15 ہزار سے زیادہ بسوں کی مرحلہ وار توسیع ہوگی۔ پوری ریاست میں شہروں، چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں تک عام آدمی کے لیے سفر آسان ہوگا۔ یہ ایسا مربوط ٹرانسپورٹ نظام ہے جو سفر کے وقت کو کم کرے گا اور سفر کو زیادہ آسان بنائے گا۔ پوری ریاست میں جدید اور سہولت بخش بس اسٹاپ، بس ٹرمینل اور نجی بس آپریٹروں کے لیے بس ڈپو تیار کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سْگم ٹرانسپورٹ سروس میں آن لائن ٹکٹنگ، ای وی اور سی این جی بسوں کو ترجیح دیتے ہوئے ماحول دوست جدید بسیں شامل ہوں گی۔ مسافروں کے فیڈ بیک کی بنیاد پر شکایات اور مسائل کے فوری حل کے لیے 24×7 کسٹمر کیئر کی سہولت رہے گی۔
مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر مسٹر گڈکری نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے نے معاشرے کی آخری صف میں کھڑے شخص کی خدمت کا راستہ دکھایا۔ وزیر اعلیٰ سْگم ٹرانسپورٹ سروس اور پی ایم ای-بس سروس کی شروعات کا یہ فیصلہ مدھیہ پردیش کی عوام کے لیے آمدورفت کی سہولیات کو آسان بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔ اس کا فائدہ ریاست کے غریب اور ضرورت مندوں کو بھی ملے گا۔ ریاست میں ریاستی ٹرانسپورٹ سروس کا ایک دور ایسا بھی تھا، جب بسوں میں گھنٹی کو چھوڑ کر سب بجتا تھا۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اختراعی سوچ کے ساتھ عوامی ٹرانسپورٹ کو دوبارہ شروع کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کو 972 پی ایم-ای بسیں ملی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 25 ہزار الیکٹرک اے سی بسیں چلانے کی ضرورت ہے۔ مدھیہ پردیش میں ابھی 8 وہیکل اسکریپنگ سینٹر ہیں، ابھی 21 مزید شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں مزید 6 آپریشنل ٹیسٹنگ سینٹر کھولنے کے لیے منظوری دی گئی ہے۔ ریاست میں 29 ڈرائیونگ ٹریننگ سینٹر منظور شدہ ہیں۔ اب مزید 61 سینٹر دیے جا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر مسٹر گڈکری نے کہا کہ کیب ایگریگیٹرز کے ساتھ جڑ کر روزگار کے مواقع بڑھانے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔
ریاستی حکومتوں کو اس سمت میں کام کرنا ہوگا، مدھیہ پردیش میں اس پہل سے 40 سے 50 لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔

مرکزی وزیر مسٹر گڈکری نے کہا کہ اب بہتر حکمرانی کے عمل کا جائزہ’ سکھانک‘ کی پیمائش کی بنیاد پر ہو رہا ہے۔ ہماری حکومت عوام کو اچھی سڑکیں، پانی، خوراک، صحت کی سہولت کے ذریعے خوشحال زندگی دینے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ بہتر سڑکوں کی تعمیر بھی اسی سمت میں ایک کوشش ہے۔ اسی سمت میں ہم آلودگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں 22 لاکھ کروڑ روپے کا پیٹرول-ڈیزل اور گیس درآمد ہوتا ہے۔ اسے کم کرنا ہی میں نے اپنا مشن بنایا ہے۔ مجھے ملک میں پہلی الیکٹرک بس، کار، الیکٹرک اسکوٹر اور آٹو کو ہری جھنڈی دکھانے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ ملک میں فلیکس انجن کے ساتھ گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ ان میں ایتھنول کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ایتھنول ملا ہوا ایندھن سے گاڑیاں چلتی ہیں۔ بھارت میں سال 2022 سے پیٹرول میں ایتھنول ملا کر ایندھن ڈالا جا رہا ہے۔ ابھی ملک بھر میں 4 کروڑ فور وہیلر اور 20 کروڑ ٹو وہیلر میں یہ فلوئڈ ڈالا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ ایتھنول کے استعمال سے گاڑی کو نقصان نہیں ہوتا، بلکہ گاڑی کا ایوریج بھی بڑھا ہے۔ ملک کا کسان اب اناج پیدا کرنے والے سے توانائی پیدا کرنے والا بھی بن گیا ہے۔