حیدرآباد21ستمبر: تلنگانہ میں تعلیم کو ٹیکنالوجی سے منسلک کرنے کی سمت میں ایک ضروری قدم اٹھایا گیا ہے۔ سرسلا کے ایک سرکاری اسکول میں روبوٹ ٹیچر نہ صرف طلبہ کو پڑھا رہا ہے بلکہ ان کے خدشات کا دلچسپ جواب بھی دے رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس پر مبنی یہ ٹیچر طلبہ کو کافی متاثر کر رہا ہے۔ پڑھائی کا یہ نیا طریقہ طلبہ میں کافی دلچسپی پیدا کر رہا ہے، کیونکہ اس میں روایتی اساتذہ کے برعکس تکنیک کی مدد سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ سرسلا کے گیتا نگر زیڈ پی ایچ ایس اسکول میں پیرنٹس میٹنگ کے دوران بھی یہ روبوٹ ٹیچر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اِنڈس لیب کے ذریعہ اسکول کو تحفہ میں دیے گئے روبوٹ ٹیچر نے پہلی بار والدین سے بھی براہ راست بات کی اور ان کے سوالوں کے جواب دیے، جس سے سب کافی متاثر ہوئے۔
والدین نے روبوٹ ٹیچر سے اسکول میں تعلیم، اسٹوڈنٹس ڈیولپمنٹ اور ٹیکنالوجی کے استعمال وغیرہ موضوعات پر سوال کیے۔ والدین نے دلچپسی سے دیکھا کہ روبوٹ ٹیچر نے ٹیکنالوجی کی مدد سے واضح جوابات دیے۔ اساتذہ کے ساتھ ہونے والی عام میٹنگ کے برعکس روبوٹ کے ساتھ آمنے سامنے سوال اور جواب والدین کو بہت پسند آیا۔
کیا انسداد منشیات مہم ایک عہد ہے یا انتخابی چال؟
چنڈی گڑھ، 21 ستمبر (یو این آئی) پنجاب کی سابق وزیر لکشمی کانتا چاولہ نے ریاست میں منشیات کے خلاف چلائی جارہی سیاسی مہمات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پارٹیوں کو الزام تراشی اور جوابی الزامات سے بالاتر ہو کر اپنے دور اقتدار میں منشیات کی صورتحال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ محترمہ چاولہ نے پیر کو کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے پچھلی دو دہائیوں میں پنجاب پر حکومت کی ہے اور انہیں بتانا چاہیے کہ ان کے دور میں منشیات کا مسئلہ کتنا بڑھ گیا ہے اور کتنے لوگ اس کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔









