ریاست بھوپال قدیم تاریخی ریاست ہے۔ یہاں ایک زمانے تک نوابوں کا دور رہا ہے۔ بھوپال کی تاریخ میں ایک دور ایسا بھی آیا جس میں بھوپال نے خوب ترقی کی۔ میچ باکس فیکٹری، بجلی بورڈ، برف کا کارخانہ، شوگر مل، گتے کی فیکٹری، ٹیلی فون ایکسچینج، امپیریل بینک اور پوسٹ آفس وغیرہ کا کام ہوا۔اس کے علاوہ کئی مڈل اسکول اور ہائی اسکول کھولے گئے۔ یونانی کالج کھلا۔ آصفیہ طبیہ کے نام سے حمیدیہ کالج کا بھی قیام عمل میں آیا۔یہ دور تھا ریاست بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کا ۔جن کا آج 9؍ستمبر کویوم پیدائش ہے۔
آپ 9 ؍ستمبر 1894 کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ نواب حمید اللہ خان نواب سلطان جہاں بیگم کے بیٹے تھے۔ وہ بھوپال کے 19ویں نواب تھے اور 1916 میں اپنی والدہ نواب سلطان جہاں بیگم کے سیکرٹری بھی رہے۔ نواب خان1920 میں بھوپال میونسپلٹی کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ اور 1920 میںعلی گڑھ یونیورسٹی کی ترقی کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے ۔غور طلب ہے کہ نواب حمید اللہ خان 9 جون 1926کو بھوپال ریاست کے نواب منتخب ہوئے اور ایک عرصے تک آپ نے بھوپال کی خدمت کی۔ 1930 میں، وہ دو بار چیمبرز آف پرنسز کے چانسلر رہے۔ وہ 1935 میں بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا کے چیئرمین بھی بنے۔نواب خان نے لندن میں گول میز کانفرنس اور گول میز کانفرنس شملہ میں بھی شرکت کی۔ آپ کے دور میں بھوپال میں بہت کام ہوا اور ریاست بھوپال نے اپنی بلندیوں کو چھوا۔
بھوپال کے لوگوں میں سیاسی شعور پیدا ہوچکاتھا، اسی کو دیکھتے ہوئے نواب حمید اللہ خان نے بھوپال میں ریاستی کونسل بنائی، جس میں 1927 میں عوامی اور حکومتی لوگوں کو شامل کیا جانا شروع ہوا، جو 1949 تک جاری رہا۔ نواب بھوپال ہاکی، پولو، ٹینس کے اچھے کھلاڑی تھے اور انہیں کشتی کا بھی بہت شوق تھا۔
شہر بھوپال قدیم تاریخی شہر رہا ہے جس کے آخری نواب ’نواب حمید اللہ خان ‘‘ ہوئے ہیں ۔ یہ شہر تاریخی عمارتوں کا شہر ہے۔ تاج المساجد ،صدر منزل ہو، گول گھر، یا شاہجہاں آباد گیٹ ہو یا پھر جامع مسجد و موتی مسجد، ہر ایک کی شاندار تاریخ رہی ہے۔ہر ایک کا اپنا شاندار ماضی ہے۔یہی سب چیزیں شہر بھوپال کو دوسرے شہروں سے خاص اور مختلف بناتی ہیں۔
نواب حمید اللہ خان اور ان کے بعد جو بھی ترقیات کام ہوئے ہیں اس سے شہر نے نہ صرف یہ کہ ترقی کی بلکہ اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔لیکن موجودہ دور میں بھوپال کی پہچان کھوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ تاریخی شہر تجاوزات سے گھرتا ہوا نظر آتا ہے۔تاریخی ورثے، عمارتیں اور میدان کھنڈروں میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ وقف املاک کا تحفظ نہیں ہو رہا ہے۔ ناجائز قبضے بڑھتے جارہے ہیں۔قدیم تعلیمی ادارے بندہونے کی کگار پر ہیں اور روز بروز ہوٹل، شاپنگ مال اور سنیما گھر کھلتے جارہے ہیں۔سڑکیں وسیع تو کی جارہی ہیں لیکن ڈیولپمنٹ کے نام پر وراثت کو ختم کیا جارہا ہیں نیز قبرستان تنگ ہوتے جارہے ہیں۔ غرض یہ کہ ہمارے بھوپال کو ایک بار پھر نواب حمید اللہ خان جیسی شخصیت کی ضرورت ہے ۔
نواب حمید اللہ خان اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ایک خوبصورت، آباد اورم ترقی یافتہ شہر انہوںنے چھوڑا ہے ۔جس کی حفاظت یہاں کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے ۔چاہے صفائی کے لحاظ سے ہو یا گنگا جمنی تہذیب کے لحاظ سے،ہر اعتبار سے بھوپال نمبر ون ہونا چاہئے۔ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے یہاں کے تاریخی اثاثے کو بچانے کی ضرورت ہے۔کچھ عمارتوں کو وقت کی تباہ کاریوں سے نقصان ضرور پہنچا ہے جبکہ کچھ کے صرف نام اور آثار باقی رہ گئے ہیں۔ جبکہ یہ ہمارا ثقافتی ورثہ ہیں۔موجودہ حکومتیں ان اثار قدیمہ کو مٹانا چاہتی ہیں، ان کی تاریخ کو مسخ کرنا چاہتی ہیں۔کبھی کسی جگہ کا نام تبدیل کر دیا جاتا ہے تو کبھی کسی جگہ کو اس کے اصلی مالک کو چھوڑ کر کسی اور نام سے پکارا جانے لگتا ہے۔ نفرت کی سیاست کر سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔بس اب ان تاریخی چیزوں پر ہی سیاست ہو رہی ہے۔انصاف کے نظریہ سے دیکھا جائے تو یہ تمام چیزیں محض عمارتیں نہیں ہیں بلکہ ہمارے بزرگوں کی وراثت ہیں۔جس کو بچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
ریاست بھوپال کے آخری نواب حمید اللہ خان کے یوم پیدائش کے موقع پر اوقاف شاہی کی انتظامیہ سے خاص طور پر درخواست ہے کہ بھوپال کے تمام نوابوں کے نام سے ادارے قائم کر دئیے جائیں۔اوقاف شاہی کی اراضی کا صحیح استعمال ہونا چاہئے ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جس سے اُردو، فارسی اور عربی کا فروغ ہو۔ اس کے علاوہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ تمام قدیم تاریخی اثاثوں کو بچایا جائے۔گنگا جمنی تہذیب کو بچایا جائے۔ شہر بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی کو سنٹر یونیورسٹی بنایا جائے اس سے بھوپال تاریخی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ علم کا مرکز بھی بنے گا ۔ نواب پٹودی کے نام سے کھیل میدان بنایا جائے، بھوپال میں ہاکی گرائونڈ بھی بننا چاہئے۔نیز ایسے کام کئے جائیں جس سے سماج کا بھلا ہو، ہر شہری تعلیم یافتہ بنے،بے روزگاروں کو روزگار ملے، غریبوں کا فائدہ ہو ، بیٹیوں کا تحفظ ہو، ہونہار طلباء کی حوصلہ افزائی ہو۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ جب کسی ریاست میں ترقیاتی کام ہوں گے تو روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور جب ہر جگہ روزگار ہوگا تو ہر چیز کی فراوانی ہوگی جرائم کی شرح میں یقینا کمی آئے گی۔









