بھوپال:09؍ستمبر:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کا 6 سے 8 ستمبر تک دبئی کا دورہ مدھیہ پردیش کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو عالمی سطح پر نئی وسعت دینے والا رہا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کا مقصد سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکنالوجی، بازار، برآمدات اور روزگار کو جوڑ کر مدھیہ پردیش کو عالمی سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کا اہم مرکز بنانا ہے۔ اے آئی ایم کانگریس-2026 میںوزیراعلیٰ ڈاکٹر یادونے مدھیہ پردیش کو صرف سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر نہیں بلکہ عالمی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔ دبئی دورے کے دوران تقریباً 53 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ وزراء، تاتارستان کی قیادت، عالمی بینک اور ڈی پی ورلڈ، کریسنٹ انٹرپرائزز، جیمس ایجوکیشن، شراف گروپ، چوئیتھرامس، رانا ہولڈنگز، وی ایف ایس گلوبل اور BEEAH جیسی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی میٹنگوںمیں لاجسٹکس، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، اے آئی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، گرین انرجی، ای-موبلٹی، فارما، تعلیم، سیاحت، صحت، جدید مینوفیکچرنگ اور ویسٹ ٹو انرجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری کے امکانات کھلے۔
دبئی نے مدھیہ پردیش میں سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی شعبہ کا مطالعہ کرنے کے لیے نمائندہ وفد بھیجنے، ہوائی رابطہ بڑھانے اور گلوبل انویسٹرس سمٹ-2027 میں اعلیٰ سطح کے سرمایہ کار وفد کے ساتھ شرکت کی سمت میں رضامندی ظاہر کی، وہیں عالمی بینک نے اے آئی اور ڈیجیٹل گورننس پروجیکٹوںمیں تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔ ڈی پی ورلڈ اور شراف گروپ کے ساتھ ملٹی موڈل لاجسٹکس، BEEAH کے ساتھ کچرا بندوبست اور ویسٹ ٹو انرجی، GEMS کے ساتھ تعلیم اور ہنر مندی کی ترقی اور چوئیتھرامس کے ساتھ ریٹیل اور فوڈ پروسیسنگ کے امکانات نے دورے کو ٹھوس کاروباری مواقع سے جوڑا۔ شارجہ چیمبر کے ساتھ بزنس فورم اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سرمایہ کاری راؤنڈ ٹیبل کی پہل کے ساتھ مدھیہ پردیش نے یہ واضح پیغام دیا کہ اب مقصد صرف سرمایہ حاصل کرنا نہیں بلکہ سرمایہ، ٹیکنالوجی، بازار، روزگار اور عالمی سپلائی چین کو مدھیہ پردیش سے جوڑنا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری کے نقشے پر مضبوط ہوتا مدھیہ پردیش
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادونے اے آئی ایم کانگریس-2026 میںپوری دنیا کے سرمایہ کاروں کو مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
٭ 25 سے زیادہ نئی پالیسیاں: سرمایہ کاری اور کاروبار کو آسان بنانے کے لیے 25 سے زیادہ نئی پالیسیاں اور 2700 سے زیادہ غیر متعلقہ قوانین ختم کیے گئے۔
٭ MSME میں 1.10 کروڑ روزگار: ریاست میں MSME سیکٹر میں 1.10 کروڑ سے زیادہ افراد کام کر رہے ہیں۔
٭ 76 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ برآمدات: سال 2026-27میں مدھیہ پردیش سے 76 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی برآمدات۔
٭ مستقبل کے شعبوں پر توجہ: AI، ڈیٹا، ڈرون، دفاع، سائنس سٹی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو سرمایہ کاری کے نئے شعبوں کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
٭ تین نئے آئی ٹی پارک: ریوا، اندور اور اجین میں تین نئے آئی ٹی پارک تیار کیے جا رہے ہیں۔
٭ زمین، بجلی ، پانی کی طاقت: مناسب لینڈ بینک، زمین، اضافی بجلی، آبی وسائل اور گرین انرجی کی دستیابی کو سرمایہ کاری کی بڑی طاقت قرار دیا گیا۔
٭ بین الاقوامی رابطہ: بھوپال اور اندور سے بین الاقوامی پروازیں؛ چار نئے ہوائی اڈے تیار کرنے کی تیاری۔
٭ زراعت سے عالمی فوڈ چین تک: فوڈ پروسیسنگ، کولڈ چین، گریڈنگ، ذخیرہ اندوزی اور زرعی برآمدات میں متحدہ عرب امارات اور خلیجی بازار کو ہدف ۔
٭ ٹیکسٹائل کی عالمی برانڈنگ: چندیری اور مہیشوری کو جدید ٹیکسٹائل پارک اور گارمنٹ مینوفیکچرنگ سے جوڑنے کا منصوبہ۔
٭ لاجسٹکس میں بڑے مواقع: ڈی پی ورلڈ کے ساتھ پوارکھیڑا میں ملٹی موڈل لاجسٹکس ہب کے امکانات۔
٭ شراف گروپ کی تجویز: مدھیہ پردیش میں ریل سائڈنگ پر مبنی لاجسٹکس پارک کے لیے 30–50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان اور 300–600 روزگار کے مواقع۔
٭ جیمس ایجوکیشن: مدھیہ پردیش کے بڑے اور ابھرتے ہوئے شہروں میں بین الاقوامی K-12اسکولوں اور ہنر مندی کی ترقی کے مراکز کے امکانات۔
٭ کریسنٹ انٹرپرائزز: لاجسٹکس، ویئر ہاؤسنگ، توانائی، شہری بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی تعاون پر گفتگو۔
٭ رانا ہولڈنگس: اسمارٹ مینوفیکچرنگ، ڈیٹا سینٹر، گرین ہائیڈروجن، گرین انرجی، ای-موبلٹی اور زرعی مشینری میں امکانات۔
٭ چوئیتھرامس: جدید ریٹیل، سپر مارکیٹ، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ اور مقامی کسانوں سے براہ راست خریداری کے امکانات۔
٭ بی – آہ(BEEAH) کے ساتھ گرین شراکت داری: ویسٹ مینجمنٹ، ویسٹ ٹو انرجی، سرکلر اکانومی اور اسمارٹ سٹی ماڈل میں تعاون۔
٭ اندور ماڈل کی توسیع: ٹھوس کچرے کے انتظام اور بائیو-CNG ماڈل کو عالمی ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی پہل۔
٭ متحدہ عرب امارات کا سیاحتی وفد: ہوٹل، ہاسپیٹیلٹی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کانمائندہ وفد مدھیہ پردیش آئے گا۔
٭ ہوابازی تعاون: مدھیہ پردیش اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فضائی رابطہ بڑھانے پر رضامندی کی سمت میں پہل۔
٭ عالمی بینک سے AI تعاون: AI اور ڈیجیٹل گورننس پروجیکٹوںمیں مالی اور تکنیکی تعاون کے امکانات۔
٭ تاتارستان سے شراکت داری: ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ، پیٹروکیمیکلس، فوڈ پروسیسنگ، انجینئرنگ، لاجسٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون؛ GIS-2027 کی دعوت۔
٭ ایتھوپیا سے اقتصادی تعاون: زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، فارما، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور توانائی میں سرمایہ کاری کے امکانات۔
٭ راس الخیمہ سے صنعتی تعاون: سیرامکس، تعمیراتی مواد، فارما، میڈیکل ڈیوائس، سیاحت، فوڈ پروسیسنگ، لاجسٹکس اور قابلِ تجدید توانائی میں شراکت داری۔
٭ شارجہ چیمبر کے ساتھ بزنس فورم: ’ایم پی-شارجہ بزنس فورم‘ کی پہل اور مدھیہ پردیش کے MSME برآمد کنندگان کو خلیجی خریداروں سے جوڑنے پر زور۔
٭ اوڈی او پی جی آئی کی عالمی برانڈنگ: چندیری، مہیشوری، باٹک، زری-زردوزی، بیل میٹل اور گوالیار کارپٹ کو دبئی میں عالمی بازار کے سامنے پیش کیا گیا۔
٭ عرب ممالک تک رسائی: عرب پارلیمنٹ کے صدر سے گفتگو؛ عرب سرمایہ کاروں کو توانائی، فارما، میڈیکل ڈیوائس، ٹیکسٹائل، لاجسٹکس، فوڈ پروسیسنگ اور شہری بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی دعوت۔
٭ جی آئی ایس -2027مرکز میں: متحدہ عرب امارات، تاتارستان، ایتھوپیا، عرب ممالک اور عالمی صنعتی شعبo کو گلوبل انویسٹر سمٹ-2027 میں شرکت کی دعوت۔
سرمایہ کاری کے ساتھ ٹیکنالوجی، بازار، برآمدات اور روزگار کو جوڑ کر مدھیہ پردیش کو عالمی سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کا اہم مرکز بنانا
٭ مدھیہ پردیش نے دبئی میں عالمی سرمایہ کاری کے لیے اپنا ویژن پیش کیا—وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اے آئی ایم کانگریس-2026 کے ’انویسٹمنٹ ڈیسٹینیشن: مدھیہ پردیش‘ سیشن میں عالمی سرمایہ کاروں کو ریاست میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور مدھیہ پردیش کی قابلِ اعتماد، شفاف اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی معلومات دی۔
٭ دبئی کے اہم سرمایہ کاروں اور صنعتی گروپوں سے ون ٹو ون گفتگو—وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ڈی پی ورلڈ، رانا ہولڈنگس، جیمس ایجوکیشن، کریسنٹ انٹرپرائزز، بْیومرک کارپوریشن، شراف گروپ، وی ایف ایس گلوبل، چوئیتھرامس سمیت اہم عالمی کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندوں سے براہ راست سرمایہ کاری پر گفتگو کی۔
٭ ڈی پی ورلڈ کے ساتھ پوارکھیڑا کو بین الریاستی لاجسٹکس ہب بنانے کا امکان—ملٹی موڈل لاجسٹکس، ویئر ہاؤسنگ اور کولڈ چین کے ذریعہ کسانوں، ایف پی او، ایم ایس ایم ای اور صنعتوں کی مصنوعات کو عالمی بازار سے جوڑنے کے منصوبے پر تبادلہ خیال۔
٭ جیمس ایجوکیشن مدھیہ پردیش میں بین الاقوامی معیار کے K-12اسکول کھولنے کا خواہش مند—ریاست کے اہم اور ابھرتے ہوئے شہروں میں جدید اسکول کیمپس قائم کرنے اور طلباء کی مہارتوں کی ترقی پر کام کرنے میں دلچسپی۔
٭ چوئیتھرامس گروپ ریاست میں جدید ریٹیل نیٹ ورک تیار کرے گا—اہم شہروں میں سپر مارکیٹ اور جدید کریانہ ریٹیل مراکز قائم کرنے کے ساتھ مقامی کسانوں اور پروڈیوسروں سے براہِ راست خریداری اور فوڈ پروسیسنگ و پیکیجنگ کو فروغ دینے پر رضامندی۔
٭ بیومرک کارپوریشن نے کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی—انفراسٹرکچر، صحت، ٹیکنالوجی اور گرین انرجی میں امکانات تلاش کرنے پر گفتگو۔
٭ رانا ہولڈنگز کے ساتھ مستقبل کی ٹیکنالوجی پر توجہ—اسمارٹ مینوفیکچرنگ، ڈیٹا سینٹر، گرین انرجی، گرین ہائیڈروجن، ای-موبلٹی اور زرعی مشینری میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال۔
٭ کریسنٹ انٹرپرائزز نے توانائی، لاجسٹکس اور شہری بنیادی ڈھانچے میں دلچسپی ظاہر کی—مدھیہ پردیش میں ویئر ہاؤسنگ، لاجسٹکس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو۔
٭ متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد زَیودی کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات—بھارت-یو اے ای CEPA کے تحت غیر تیل تجارت، جدید ٹیکنالوجی، سپلائی چین اور سرحد پار سرمایہ کاری کو رفتار دینے پر رضامندی۔
٭ متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ سطحی سرمایہ کاری نمائندہ وفد مدھیہ پردیش آئے گا—ہوٹل اور ہاسپیٹیلٹی شعبہ میں سرمایہ کاری کے امکانات کا مطالعہ کرنے کے لیے یو اے ای کے نمائندہ وفد کے جلد ریاست کے دورے پر اتفاق۔
٭ مدھیہ پردیش-یو اے ای سرمایہ کاری تعاون کے لیے 5–10 عمل درآمد کے لیے تیار منصوبوں کی نشاندہی کی جائے گی—’مدھیہ پردیش-یو اے ای انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل‘ منعقد کرنے اور پروجیکٹوںکے لیے مخصوص نوڈل افسران مقرر کرنے کا فیصلہ؛ تین ماہ میں پہلی جائزہ میٹنگ۔
٭ تاتارستان کے ساتھ نئی صنعتی شراکت داری کا راستہ کھلا—روسی جمہوریہ تاتارستان کے سربراہ رستم منّیخانوف کے ساتھ میٹنگ میں ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ، پیٹروکیمیکلس، فوڈ پروسیسنگ، انجینئرنگ، لاجسٹکس، زراعت، ہنر مندی کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی میں B2B اور G2G تعاون پر رضامندی۔
٭ تاتارستان کا سرمایہ کاری وفد GIS-2027 میں آئے گا—تاتارستان نے مدھیہ پردیش کو ’ٹائم: روس-بھارت‘ فورم اور نمائش میں شرکت کی دعوت دی اور آئندہ گلوبل انویسٹرز سمٹ میں وفد کے ساتھ شرکت کرنے کی عہد بندی کی۔
٭ عالمی بینک کے ساتھ AI اور ڈیجیٹل منصوبوں پر گفتگو—عالمی بینک کے ڈیجیٹل اور AI امور کے نائب صدر سانگبو کِم کے ساتھ ملاقات میں مدھیہ پردیش کے AI اور ڈیجیٹل گورننس منصوبوں کے لیے فنڈنگ اور مالی تعاون کے امکانات پر تبادلہ? خیال۔
٭ سیاحت اور ہاسپیٹیلٹی میں یو اے ای کی شراکت داری—یو اے ای کے وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے مدھیہ پردیش میں ہوٹل اور ہاسپیٹیلٹی سرمایہ کاری کے امکانات کے لیے خصوصی وفد بھیجنے کی یقین دہانی کرائی۔
٭ مدھیہ پردیش-یو اے ای فضائی رابطہ بڑھانے میں تعاون—یو اے ای کی جانب سے مدھیہ پردیش اور یو اے ای کے درمیان ایوی ایشن آپریشنز کی توسیع میں تعاون کا یقین؛ اس سے سیاحت، کارگو اور کاروباری آمدورفت کو رفتار ملنے کا امکان۔
٭ کان کنی، ٹیکسٹائل، جنگلات اور سیاحت میں یو اے ای کے ساتھ شراکت داری—ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور پالیسی تعاون کے امکانات پر اعلیٰ سطحی تبادلہ خیال۔
٭ بی-آہ کے ساتھ ویسٹ ٹو انرجی شراکت داری کے امکانات—شارجہ میں واقع بی-آہ ہیڈکوارٹر میں وزیرِ اعلیٰ مسٹر ڈاکٹر یادو نے گروپ سی ای او خالد الحریمل کے ساتھ میٹنگ کی؛ مدھیہ پردیش میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، ویسٹ ٹو انرجی، سرکلر اکانومی اور گرین موبیلیٹی میں سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون پر تبادلہ? خیال کیا گیا۔
٭ اندور کے صفائی ماڈل کو عالمی شراکت داری سے جوڑنے کی پہل—بی-آہ کے ساتھ اندور کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور بایو-سی این جی ماڈل کو جوڑ کر جدید کچرا انتظام اور زیرو ویسٹ لینڈفل کی سمت میں کام کرنے کے امکانات تلاش کیے گئے۔
٭ شارجہ چیمبر کے ساتھ بزنس فورم کی تجویز—شارجہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین عبداللہ سلطان العویس سے ملاقات میں اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کے مدھیہ پردیش دورے اور ’مدھیہ پردیش-شارجہ بزنس فورم‘ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔
٭ ایم پی کے ایم ایس ایم ای اور برآمد کنندگان کو خلیجی بازار سے جوڑنے کی پہل—شارجہ چیمبر سے ریاست کے پروڈیوسروں کو خلیجی ممالک کے خریداروں اور ڈسٹری بیوٹرز سے جوڑنے میں تعاون طلب کیا گیا۔
٭ فوڈ پروسیسنگ، کولڈ چین، لاجسٹکس، ٹیکسٹائل، فارما، رینیوایبل انرجی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے مواقع—شارجہ کی کمپنیوں کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے مدعو کیا گیا۔
٭ مدھیہ پردیش کے اہم صنعتی مراکز کی عالمی برانڈنگ—پیتھم پور اور منڈی دیپ جیسے صنعتی مراکز کے ساتھ ریاست کی صنعتی زمین، کنیکٹیویٹی، توانائی، ہنرمند انسانی وسائل اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا گیا۔
٭ مدھیہ پردیش کی مرکزی جغرافیائی حیثیت کو سرمایہ کاری کی طاقت کے طور پر پیش کیا گیا—ریاست تقریباً 1,000 کلومیٹر کے دائرے میں ملک کی تقریباً 60 فیصد آبادی تک رسائی فراہم کرتی ہے، جس سے بڑی صارف مارکیٹ تک مصنوعات کی تیز رسائی ممکن ہے۔
٭ لاجسٹکس اور ایکسپورٹ کو نئی سمت دینے پر زور—سڑک، ریل اور ایئر کنیکٹیویٹی، دہلی-ممبئی صنعتی کوریڈور، ملٹی موڈل لاجسٹکس اور ICD/MMPLجیسی سہولیات کے ذریعہ مدھیہ پردیش کو قومی اور عالمی سپلائی چین سے جوڑنے کی حکمت عملی پیش کی گئی۔
٭ دبئی میں مدھیہ پردیش کے ODOP اور GI مصنوعات کی عالمی برانڈنگ—چندیری، مہیشوری، بیتول بیل میٹل، اجین باٹک، بھوپال زری-زردوزی اور گوالیار کارپٹ سمیت ریاست کی وراثتی مصنوعات کی بین الاقوامی نمائش منعقد کی گئی۔
٭ عرب ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری تعاون کی توسیع—عرب پارلیمنٹ کے صدر محمد احمد ال یاماہی کے ساتھ تجارت، زراعت، سیاحت، تعلیم، لاجسٹکس، فارما، ٹیکسٹائل، قابلِ تجدید توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
٭ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے 20 سے زیادہ ممالک کو GIS-2027 کی دعوت—عرب پارلیمنٹ کے ذریعے الجزائر، بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، مراکش، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کی پارلیمانی قیادت کو مدھیہ پردیش آنے کی دعوت دی گئی۔
٭ عالمی سرمایہ کاری نیٹ ورک سے براہِ راست رابطہ—اے آئی ایم کانگریس کے ’ٹائیکونز ڈنر‘ میں سووَرین ویلتھ فنڈز، فیملی آفس، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور عالمی کارپوریٹ قیادت سے وزیرِ اعلیٰ مسٹر ڈاکٹر یادو نے گفتگو کی۔
٭ جی آئی ایس -2027کو دبئی دورے کا بڑا ہدف بنایا گیا—تقریباً ہر اہم میٹنگ میں وزیراعلیٰ نے اگلے سال مدھیہ پردیش میں ہونے والے گلوبل انویسٹرس سمٹ کے لیے سرمایہ کاروں، کمپنیوں، سرکاری نمائندوں اور تجارتی تنظیموں کو مدعو کیا۔
٭ مدھیہ پردیش کی سرمایہ کاری پالیسی کا مرکزی پیغام—’پالیسی، نیت اور قیادت‘—وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ ریاستی حکومت شفاف پالیسیوں، سنگل ونڈو نظام اور وقت مقررہ پر تعاون کے ساتھ سرمایہ کاروں کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔
6سے 8ستمبر کے دبئی دورے کے دوران مدھیہ پردیش نے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کو صرف ’سرمایہ کاری کی تجاویز‘ تک محدود نہ رکھتے ہوئے متحدہ عرب امارات، روس، عالمی بینک اور عالمی کارپوریٹ دنیا کے ساتھ لاجسٹکس، اے آئی، گرین انرجی، فوڈ پروسیسنگ، ٹیکسٹائل، فارما، تعلیم، سیاحت، ویسٹ ٹو انرجی اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری کا روڈ میپ پیش کیا۔









