نئی دہلی، 5 ستمبر: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کی شام میٹرو کا سفر کر کے دارالحکومت کے باوقار شری رام کالج آف کامرس (ایس آر سی سی) کے 100ویں یومِ تاسیس کے پُروقار پروگرام میں شرکت کی اور جین زی طالب علموں کے سامنے 48 منٹ تک محیط ایک تفصیلی اور پُرجوش خطاب کیا۔ نوجوانوں کی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تعلیمی ادارے کے سابق طلبہ پرانے اور ماہر کھلاڑی (او جی) ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دنیا بھر میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ وزیر اعظم نے 13 سال قبل بطور وزیر اعلیٰ گجرات 2013 میں اسی ادارے میں اپنے خطاب کو یاد دلاتے ہوئے واضح کیا کہ تب ملک کا بینکنگ نظام تباہ حال تھا اور 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد حکومت نے کوئی ٹھوس پیش قدمی نہیں کی تھی، جبکہ ان کے دورِ اقتدار میں کووڈ وبا، روس-یوکرین تنازع اور ایران کشیدگی جیسے عالمی بحرانوں کے باوجود ملک نے اقتصادی و دفاعی خود اعتمادی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ انہوں نے کہا کہ تب انہوں نے گلاس کے آدھا خالی اور آدھا بھرا ہونے کے نظریے کی بات کہی تھی، اور آج ملک کا اصل نقطۂ نظر ہر مایوس کن حالت میں بھی امید اور ترقی کو تلاش کرنا ہے۔
وزیر اعظم نے یومِ آزادی پر لال قلعہ سے کی گئی اپنی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس روز ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کر کے دراصل ہومیوپیتھی کی ایسی گولی دی تھی جو اندر دبی بیماری کو وقتی طور پر باہر ابھار دیتی ہے، اور اس بیان کے آتے ہی تمام فکری انتشار پھیلانے والے تلملا کر سامنے آنے لگے جس سے عوام اب ان کا اصل چہرہ اور نیت دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کے ہر ترقیاتی قدم پر نکتہ چینی کرنے والوں کو انہوں نے ’ناراض پھوپھا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ طبقہ ہے جس کا تکیہ کلام صرف یہی رہتا ہے کہ ”اس کی کیا ضرورت ہے“، اور اسی ذہنیت کے لوگوں نے بلٹ ٹرین، یو پی آئی اور پارلیمنٹ کی نئی عمارت جیسے انقلابی منصوبوں پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا ہندوستانی نوجوان پہلے کی نسبت بڑے خواب دیکھ رہا ہے، وہ محض ملازمت کا طلبگار نہیں بلکہ اسٹارٹ اپ اور یونی کارن قائم کر رہا ہے اور خلائی تحقیق میں نام کما رہا ہے۔ وزیر اعظم نے سوال اٹھایا کہ اگر دنیا کی صفِ اول کی کمپنیوں کو ہندوستانی قیادت چلا رہی ہے تو وہ کمپنیاں خود ہندوستانی کیوں نہیں ہو سکتیں؟ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے نوجوان نسل کو عزم دلایا کہ کشتی، ملاح اور پرواز سب اپنے ہونے چاہئیں اور ترقی یافتہ و خود انحصار ہندوستان کی تعمیر کی سمت اٹھنے والا ہر قدم ہمارا ہونا چاہیے۔