بھوپال، 2 ستمبر: راجدھانی بھوپال میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے خلاف جاری سیلنگ مہم کے خلاف تاجروں کا غم و غصہ بدستور جاری ہے، جس کے تحت کولار تاجر مہاسنگھ کی اپیل پر بدھ کے روز کولار کے تمام بازار مکمل طور پر بند رہے۔ بند کے دوران کولار تراہہ سے لے کر گول جوڑ تک معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں، یہاں تک کہ ڈی مارٹ اور شراب کی دکانیں بھی نہیں کھلیں، تاہم میڈیکل اسٹورز اور پیٹرول پمپس جیسی ہنگامی خدمات کو بند سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ دوپہر کے وقت تاجروں نے انوکھا احتجاج کرتے ہوئے علامتی طور پر تجارت کی ارتھی سجائی اور اسے کندھا دے کر سڑکوں پر جلوس نکالتے ہوئے بلدیاتی انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔
کولار تاجر مہاسنگھ کے صدر سنیل سنگھ نے سیلنگ کی کارروائی کو مکمل طور پر غیر منصفانہ اور روزگار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن کے اس رویے نے دکانداروں کو سڑک پر لا کھڑا کیا ہے اور ان کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب تاجروں کے زبردست احتجاج اور منگل کے روز روشن پورا چوراہہ پر گھنٹوں چلے دھرنے کے باوجود میونسپل کارپوریشن نے مسلسل تیسرے دن بھی مہم جاری رکھی، جس کے تحت اب تک 170 سے زائد تجارتی ادارے سیل یا بند کروائے جا چکے ہیں۔ تاجر رہنماؤں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سیلنگ کی اس کارروائی پر فوری نظرِ ثانی کر کے متاثرہ تاجروں کو راحت فراہم کرے، بصورتِ دیگر تمام تاجر متحد ہو کر اس تحریک کو مزید تیز اور وسیع کریں گے۔