اندور، 2 ستمبر: مدھیہ پردیش اسمبلی میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے کہا ہے کہ جین زی اور جین الفا ملک کا حقیقی مستقبل ہیں اور نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی فراہم کرنا لوک سبھا میں حزب اختلاف رہنما راہل گاندھی اور کانگریس کی اولین ترجیح ہے۔ وہ اندور میں منعقد ہونے والے مجوزہ پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ کی تیاریوں سے متعلق اہم اسٹریٹجک اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اجلاس میں ریاستی امور کے انچارج ہریش چودھری، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، پولیٹیکل افیئرز کمیٹی کے اراکین، اور اندور، اجین و بھوپال ڈویژن کے ضلعی صدور، انچارجز، موجودہ و سابق اراکین اسمبلی شریک ہوئے، جہاں تنظیمی ذمہ داریوں اور لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امنگ سنگھار نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ہی راہل گاندھی اندور آ رہے ہیں اور پارٹی ان کے حقوق کی جنگ پوری طاقت سے لڑے گی۔
حزب اختلاف رہنما نے راجیو گاندھی پروڈیوگیکی وشوودیالیہ (آر جی پی وی) کی تقسیم اور نام کی تبدیلی کے معاملے پر بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اداروں کی تنظیمِ نو اور نام بدلنا ہی حکومت کی نظر میں ترقی رہ گئی ہے، جو کہ آر ایس ایس کی تنگ نظر ذہنیت کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو تین حصوں میں تقسیم کر کے سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کا نام ہٹانا قابلِ مذمت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اداروں کی شناخت مٹانے کے بجائے نظامِ تعلیم میں بہتری، طلبہ کو سہولیات اور روزگار پر مبنی تعلیم پر توجہ دے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے او بی سی کوٹے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ریاست میں دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی 52 فیصد ہے تو حکومت انہیں 27 فیصد ریزرویشن دینے سے کیوں کترا رہی ہے؟ انہوں نے حکومت سے اس پر اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ طلبہ، نوجوانوں اور او بی سی طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس کی جدوجہد جاری رہے گی۔









