بشکیک، 31 اگست: کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان انتہائی اہم اور تفصیلی دو طرفہ ملاقات ہوئی، جس میں یوکرین جنگ، خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور باہمی اسٹریٹجک تعلقات پر کھل کر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے آغاز میں روایتی گرمجوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ اس موقع پر وزیر اعظم مودی نے واضح کیا کہ دنیا کو کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کے دائرے سے باہر نکل کر دیرپا امن کے قیام کی سمت عملی پیش رفت کرنی چاہیے اور ہندوستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کی مکمل تائید کرتا ہے۔ دورانِ ملاقات وزیر اعظم نے روسی صدر کو ستمبر میں شیڈول برکس سربراہی اجلاس میں باضابطہ شرکت کی دعوت بھی دی، جس کے بعد دونوں قائدین ایک ہی گاڑی میں سوار ہو کر چھٹے ورلڈ نومَیڈ گیمز کی شاندار افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے۔ سربراہی اجلاس کے حاشیے پر وزیر اعظم مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت چین، پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں سے بھی اہم سفارتی ملاقاتیں کیں۔
دوسری جانب روسی فوج میں ہندوستانی شہریوں کی شمولیت کے حساس معاملے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے بتایا کہ نئی دہلی نے یہ سنگین مسئلہ ماسکو کے ساتھ اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر بارہا اٹھایا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اب تک موصولہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 227 ہندوستانی شہریوں کو روسی فوج میں بھرتی کیا گیا تھا، جن میں سے ہندوستانی سفارت خانے کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں 139 شہریوں کو سروس سے باضابطہ فارغ کروا کر بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے، جبکہ بدقسمتی سے میدانِ جنگ میں 51 ہندوستانیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔ خارجہ سکریٹری نے واضح کیا کہ ماسکو میں موجود ہندوستانی سفارت خانہ باقی ماندہ شہریوں کی فوری رہائی اور ان کے اہلِ خانہ کے پاس بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے روسی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔