بھوپال 21اگست: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ قومی اہمیت کا کین-بیتوا لنک پروجیکٹ بندیل کھنڈ کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس پروجیکٹ سے علاقے میں آبپاشی، پینے کے پانی اور توانائی کے شعبہ میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے ساتھ ساتھ متاثرہ اور بے گھر خاندانوں کے مفادات کا مکمل خیال رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔وزیراعلیٰ نے پنا اور چھترپور ضلع انتظامیہ کو ہدایات دیں کہ متاثرہ گاؤں میں افسران گھر گھر پہنچ کر خاندانوں کی حقیقی صورتحال اور مسائل کو سمجھیں۔ قبائلی خاندانوں کی مشکلات کو حساسیت کے ساتھ سن کر ان کا ترجیحی بنیاد پر ازالہ کریں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بے گھر خاندانوں کو حکومت کی اہل اسکیموں کا فائدہ ان کے گھر تک پہنچایا جائے۔ جہاں خاندانوں نے نئی جگہ پر رہائش اختیار کرلی ہے، وہاں اسکول، آنگن واڑی، صحت مرکز، کمیونٹی ہال سمیت ضروری بنیادی سہولیات کے لیے ٹھوس ایکشن پلان تیار کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے پنا کے رونجھ-مجھگاؤں پروجیکٹ میں منظور شدہ اضافی رقم متاثرین کو جلد ادا کرنے کی ہدایات دیں۔ جن متاثرین کے پاس عمر سے متعلق دستاویزات دستیاب نہیں ہیں، ان کی عمر کا تعین میڈکل جانچ کی بنیاد پر کرنے کو کہا۔وزیراعلیٰ نے وزیر آبی وسائل مسٹر تلسی رام سلاوٹ کو پروجیکٹ کی اعلیٰ ترجیح کے ساتھ باقاعدگی سے نگرانی کرنے اور متعلقہ محکموں کے درمیان بہتر اشتراک یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔وزیراعلیٰ نے افسران سے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں جن چوپال اور بیداری یاترا کے ذریعہ لوگوں کو پروجیکٹ سے حاصل ہونے والے فوائد کی معلومات دی جائیں۔ زمینی سطح پر مثبت سرگرمیاں منعقد کرکے لوگوں کے خدشات اور مسائل کا حل کیا جائے۔









